English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حراستی مراکز کو جائز یا ناجائز قرار دینا حکومت کا نہیںججز کا کام ہے ، عدالت عظمیٰ

القمر

 

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ حراستی مراکز کو جائز یا ناجائز قرار دینا حکومت کا نہیںججز کا کام ہے ۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں5رکنی بینچ نے فاٹا اور پاٹا ایکٹ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حراستی مراکز کے قیام سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق اور صوبائی حکومت کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کو اس بات پر مطمئن کریں کہ ان علاقوں میں 2011 ء کا ایکشن اِن ایڈ آف سوِل پاور قانون موجود ہے یا نہیں اور’اگر موجود نہیں ہے تو پھر آپ کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 25 ویں آئینی ترمیم میں 2011ء کے قانون کو ختم کرنے یا برقرار رکھنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے ایک
طرف شہری آزادی کا جبکہ دوسری طرف ریاست کی بقا کا سوال ہے۔بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اٹھایا کہ 2011ء کا قانون اس وقت بنایا گیا جب وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے موجود تھے لیکن اب چونکہ وہ علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بن گئے ہیں، تو وہاں پر اْس وقت کے قانون کیسے برقرار رہ سکتے ہیں؟انہوں نے اٹارنی جنرل انور منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کب سے قانون سازی کرنا شروع ہوگیا، یہ اختیار تو وزارتِ قانون کے پاس ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی بھی شخص کو غیر معینہ مدت کے لیے ان حراستی مراکز میں رکھا جائے۔بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ جب سے ان اپیلوں کی سماعت شروع ہوئی ہے اس وقت سے اب تک ان حراستی مراکز میں رکھے گئے کتنے افراد کو رہا کیا گیا ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اب تک ایک شخص کو بھی ان حراستی مراکز سے رہا نہیں کیا گیا۔بینچ کے سربراہ نے کہا کہ عدالت کو پہلے اس بات پر تو مطمئن کریں کہ یہ حراستی مراکز قانون کے مطابق قائم کیے گئے ہیں یا نہیں۔بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا صوبائی حکومت نے قانون سازی سے متعلق وفاق کے امور میں مداخلت کی ہے اور کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قانونی نکات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ معاملہ پیش آیا ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’مائی لارڈ کچھ ایسا ہی ہے۔‘سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ شدت پسندوں سے متعلق ایک وڈیو پیش کرنا چاہتے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا یہ وڈیو وہی تو نہیں ہے جو پشاور میں آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد 2015ء میںعدالت عظمیٰ کو دکھائی گئی تھی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وڈیو نئی ہے، جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہیں وہ وڈیو دکھا کہ ’ججز کو متاثر تو نہیں کرنا چاہتے؟کیا آپ دکھانا چاہتے ہیں زیر حراست لوگ بہت خطرناک ہیں؟۔ان اپیلوں کی سماعت آج پھر ہوگی۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے ایک اورکیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت کے حالات سنگین ہو چکے ہیں، ہمیں تو لگ رہا ہے کہ صوبائی حکومت دیوالیہ ہوجائے گی۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جب کام نہیں کرتے تو تنخواہ کیوں مانگتے ہیں، معلوم نہیں کہ پشاور ہائی کورٹ کیا کررہی ہے، ہمیں ان کے احکامات کی سمجھ نہیں آرہی۔ عدالت نے احمد سعید کی درخواست خارج کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے