مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کے ہزاروں یہودی آباد کاروں نے قابض فوج کے سخت پہرے میں غرب اُردن کے تاریخی شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی پر گزشتہ روز دھاوا بول دیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اس موقع پر مسجد ابراہیمی کو فلسطینی نمازیوں کے لیے بند کردیا گیا اور مسجد میں اذان اور نماز سے روک دیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں یہود کو بسوں میں بھر کر مسجد ابراہیمی لایا گیا تھا، جہاں دن بھر یہودی مذہبی تہوار کی آڑ میں مقدس مقام میں گھس کر بے حرمتی کا ارتکاب جاری رہا۔ اس سے قبل قابض فوج نے مسجد ابراہیمی کے اطراف میں فلسطینی بازار بند کرا دیے تھے اور اسکولوں میں گھس کر انہیں زبر دستی چھٹی کرنے پرمجبور کیا گیا۔ مسجد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام نے مسجد کے تمام حصے یہودی آباد کاروں کے لیے کھول دیے تھے۔ دوسری جانب قابض صہیونی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکورٹی میں یہودی شرپسندوں کی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے یہودی آبادکاروں، طلبہ اور انٹیلی جنس حکام سمیت 340 شرپسند مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔
