لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے ڈیفنس رولز میں ترمیم کرکے مزید مشکل پیدا کردی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ حکومت عدالت کو مطمئن ضرورکرپاتی اگر ڈیفنس سروس ایکٹ میں ترمیم نہ کرتی، حکومت کوچاہیے تھا کہ خاص مدت کیلئے ریٹائرمنٹ کو معطل کرتی، اب حکومت کو تین سال کی مدت پرعدالت کو مطمئن کرنا پڑے گا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عدالت کو مطمئن ضرورکرپاتی اگر حکومت نے آج پاکستان ڈیفنس سروس ایکٹ میں ترمیم نہ کی ہوتی۔رولز میں طریقہ کار یہ ہے کہ ڈیفنس رولز میں توسیع کا ذکر نہیں ہے، لیکن آپ اس کی ریٹائرمنٹ کو معطل کرسکتے ہیں۔اب جب ریٹائرمنٹ معطل ہوگئی تو اس میں مدت کا تعین ساتھ نہیں ہے۔ لہذا جب تک وہ ایمرجنسی چل رہی ہے، اس وقت تک ریٹائرمنٹ کو معطل رکھا، اور جس دن آپ نے سمجھا کہ اب ایمرجنسی نہیں رہی تواس وقت آپ نے ان کو ریٹائر کردیا۔امجد شعیب نے کہا کہ جب آپ تین سال کیلئے مدت ملازمت میں توسیع کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب آپ نے تین سال ختم کردیا، جس کا چیف جسٹس نے نکتہ بھی اٹھایا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جو حالات آج ہیں وہ اگلے تین سال تک برقراررہیں گے؟ ہوسکتا ہے ہنگامی حالات اگلے 6 ماہ بعد ختم ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب عدالت میں دفاع کرنے کیلئے ڈیفنس رولز میں ترمیم ڈال دی ہے۔ اگر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کو معطل کرنا تھا تو حکومت وہ بھی تین سال کیلئے کرسکتی ہے۔ لیکن سارا کچھ ترمیم کے بغیر حکومت کرسکتی تھی، اب حکومت نے ترمیم کردی ہے تو اب حکومت کو مدت کے بارے چیف جسٹس کو مطمئن کرنا پڑے گا۔

