English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مصر:سیسی نے مخالفین کے لیے الگ نظام تشکیل دیدیا ہے ، ایمنسٹی

القمر

پیرس (صبا ح نیوز)ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کی حکومت نے ناقدین اور مخالفین کے خلاف کریک ڈائون کے لیے متوازی نظام انصاف تشکیل دے دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بنیادی ذرائع ایس ایس ایس پی کے نام سے مشہور سپریم اسٹیٹ سیکورٹی پراسیکیوشن سروس، انسداد دہشت گردی عدالتیں اور اسپیشل پولیس فورس ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے فرانس میں قائم دفتر کے ڈائریکٹر کاٹیا روکس نے پیرس میں 60صفحات پر مشتمل پر رپورٹ کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ سیسی کے مصر میں حکومت کے تمام ناقدین کو خطرناک دہشت گردوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔’’پرمننٹ اسٹیٹ آف ایکسپشن‘‘ کے نام سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صورت حال بدتر ہورہی ہے، دبائو بڑھ رہا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ مصر میں ایس ایس ایس پی کی جانب سے ان کیسز میں تیزی دیکھی گئی ہے جو 2013ء میں 529تھے اور گزشتہ برس تک وہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار 739تک پہنچ گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن جو ریاستی سلامتی کے خطرے کا باعث بننے والی سرگرمیوں سے نمٹتی ہے وہ مسلسل سیاسی مخالفین اور اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں کی تفتیش کرتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل مشرق وسطی میں تحقیق اور قانونی معاملات کے سربراہ فلپ لوتھر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس ایس پی جبر کا بنیادی ذریعہ ہے جس کا پہلا کام ناقدین پر دبائوبڑھانے اور حراست میں رکھنا ہے جبکہ اس سب کو وہ انسداد دہشت گردی کا نام دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس ایس پی، مصر کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی(این ایس اے)، اسپیشل پولیس فورس اور انسداد دہشت گردی عدالتیں مخالفین کی گرفتاریوں، ان سے تفتیش اور پرامن شہریوں کے خلاف کارروائی سے متوازی نظام انصاف کے طور پر سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی زیرحراست افراد کو طویل عرصے سے بغیر مقدمے کے گرفتار رکھا گیا ہے جنہیں قانونی معاونت تک رسائی کی امید سے بھی محروم کردیا گیا ہے اور انہیں سخت قید پر مجبور کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کئی افراد کو مہینوں اور کئی برسوں سے بغیر کسی ثبوت، خفیہ پولیس کی تحقیقات کی بنیاد پر اور بغیر کوئی رسائی کے قید میں رکھا گیا ہے۔ ایک غیر ملکی میڈیا کو مصری حکومت کی قید سے باہر آنے والے متعدد افراد اور ان کے رشتے داروں نے مشکلات اور سختیوں سے آگاہ کیا۔یاد رہے کہ رواں سال ہی اقوام متحدہ نے دوران حراست انتقال کرجانے والے سابق صدر محمد مرسی کی موت کو ریاستی قتل قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ماورائے قانون یا پھانسی کے حوالے سے معاملات کی خصوصی ماہر اگنیزکلامارڈ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد مرسی کو جن حالات میں رکھا گیا تھا اور خصوصاً آخری 5 برس کو طورا جیل میں قید رکھا گیا اس کو صرف ظالمانہ کہا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مرسی کی موت جن حالات کو برداشت کرنے کے بعد ہوئی اس کو ریاستی قتل کہا جاسکتا ہے۔اگنیز کلامارڈ نے کہا کہ ہمیں کئی ذرائع سے مصدقہ ثبوت حاصل ہوئے ہیں کہ مصر بھر میں ہزاروں قیدی ایسے ہیں جو اپنے حقوق سے محرومی کا شکار ہیں اور ان میں کئی کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر عبدالفتح السیسی کی موجودہ حکومت مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے مسلسل اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔یاد رہے کہ مصر کے سابق صدر ڈاکٹر مرسی 17جون 2019ء کو قید کے دوران جاری عدالتی کارروائی کے موقع پر کمرہ عدالت میں انتقال کرگئے تھے۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر مرسی دوران سماعت بے ہوش ہوگئے تھے اور کچھ دیر بعد انتقال کر گئے۔ڈاکٹر محمد مرسی 2012ء میں مصر میں تحریر اسکوائر پر لاکھوں افراد کے مظاہروں کے نتیجے میں حسنی مبارک کے دہائیوں پر مشتمل اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے اور انہیں اخوان المسلمون کی جانب سے صدر کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن ایک سال بعد ہی ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جانے لگا اور مصر میں ایک مرتبہ پھر احتجاج شروع ہوئے۔مصر کے اس وقت کے آرمی چیف عبد الفتح السیسی نے جولائی 2013ء میں حکومت کو گرا کر خود براجمان ہوئے اور بعد ازاں خود کو صدر منتخب کرادیا۔مصری فوج نے اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے محمد مرسی سمیت کئی رہنمائوں اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرلیا تھا اور اس دوران سیکڑوں کارکنوں کو قتل بھی کیا گیا اور کئی جیلوں میں انتقال کرگئے۔محمد مرسی کو جاسوسی، مظاہرین کو قتل کرانے اور جیل توڑنے کے الزامات کے تحت عمر قید، سزائے موت اور 20سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے