English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عراق میں کشیدگی بدترین سطح پر پہنچ گئی،22 ہلاک

نجف: حکومت مخالف احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین ایرانی قونصل خانے کو آگ لگا رہے ہیں‘ سیکورٹی اہل کار واقعے کی صبح جائے وقوع پر پہنچے

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران 24 گھنٹوں میں 22مظاہرین کی ہلاکت نے کشیدگی میں شدید اضافہ کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مشتعل افراد نے جنوبی شہر نجف میں ایرانی قونصل خانے کو آگ لگا دی، جس کے بعد کشیدگی میں بدترین اضافہ ہوا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے 22 افراد ہلاک ہو گئے۔ مظاہرین نجف اور بغداد سمیت مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ ایرانی قونصل خانے کے نزدیک مظاہرین اور ہنگامہ آرائی کے انسداد کی فورس کے درمیان تصادم ہوا۔اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا۔ ایرانی قونصل خانے کو آگ لگائے جانے کے بعد انتظامیہ نے نجف میں کرفیو نافذ کر دیا۔کشیدہ حالات کے بعد پولیس اور فوج نے جمعرات کو شورش زدہ شہروں میں سیکورٹی کی ذمے داری سنبھال لی۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں ناصریہ شہر میں ہوئیں، جہاں 16 افراد گولیوں کا نشانہ بنے۔ پولیس اور شہری دفاع حکام نے بتایا کہ مظاہرین کے ایرانی قونصل خانے کے قریب پہنچنے سے قبل عملہ باہر نکل چکا تھا، جب کہ مقامی میڈیا کے مطابق انتظامیہ نے واقعے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی تدفین جمعرات کے روز ہوئی اور کرفیو کے باوجود جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یاد رہے کہ عراق میں ایران کی مبینہ مداخلت اور حکومت کی نااہلی کے خلاف یکم اکتوبر کو دارالحکومت بغداد سے شروع ہونے والے مظاہرے جنوبی شہروں تک پہنچ چکے ہیں۔مظاہرین کی جانب سے ایرانی قونصل خانے کو نذر آتش کیے جانے کا اب تک کا سب سے شدید رد عمل ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر سیاست دان بدعنوان اور ایران سمیت غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار ہیں، جب کہ 2017ء میں جنگجو تنظیم داعش کو شکست دینے کے باوجود حکومت ملک میں استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مکمل طور پر ناکام ہے۔عراقی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو عراق اور ایران کے درمیان تاریخی تعلقات میں بگاڑ پیدا کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔وزارت نے خبردار کیا کہ مظاہرین کی صفوں میں بیرونی عناصر گھسے ہوئے ہیں جو ایسا ایجنڈا رکھتے ہیں جس کا قومی مطالبات سے کوئی واسطہ نہیں۔عراقی وزارت خارجہ کے مطابق نجف میں جو کچھ پیش آیا وہ سرکاری موقف کا مظہر نہیں ہے۔ جب کہ ایران نے عراقی حکومت سے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کیا۔ ایران نے مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ عراق میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ دوسری جانب عراقی وزیراعظم نے ان ہلاکتوں کے بعد فوجی کمانڈر کو برخاست کردیا۔ فوجی حکام نے جمعرات کے روز کہا کہ انہوں نے مظاہروں کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کرائسز سیل بنائے ہیں، جن میں فوجی اور سول حکام شامل ہوں گے۔فوجی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ سیلز صوبائی گورنر کی سربراہی میں کام کریں گے اور فوجی حکام ارکان کی حیثیت سے ان کرائسز سیلز میں شامل رہیں گے۔بیان کے مطابق فوجی حکام سیکورٹی صورتِ حال کو بھی قابو میں رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے