
واشنگٹن/ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہانگ کانگ کے حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت میں ایک نئے قانون پر دستخط کر دیے۔ انسانی حقوق اور جمہوریت کے فروغ سے متعلق امریکی قانون کے تحت امریکا ہانگ کانگ میں جمہوری آزادیاں کچلنے کے مرتکب چینی حکام پر پابندیاں لگا سکے گا۔ نئے قانون میں امریکی محکمہ خارجہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر یہ تصدیق کرے کہ کیا ہانگ کانگ کو اتنی خود مختاری حاصل ہے کہ امریکا اس کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھے۔قانون میں یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو امریکا اس پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔ چین نے امریکی اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ چین کا الزام ہے کا امریکا اور یورپی ملک ہانگ کانگ میں جاری بدامنی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ہانگ کانگ سے متعلق اپنی من مانیاں جاری رکھیں تو اسے چین کے جوابی اقدامات کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ایک بیان میں چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا کی اس قانون سازی سے چین کے عوام کا ہانگ کانگ سے متعلق عزم مزید مستحکم ہو گا اور امریکا کے تمام منصوبے برباد ہوں گے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز چین میں امریکی سفیر کو چینی وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے واضح کیا گیا کہ امریکا چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔ہانگ کانگ کی چین نواز حکومت نے بھی امریکی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے 6 ماہ سے جاری مظاہروں کو تقویت ملے گی۔یہ ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کاروباری، تعلیمی سرگرمیاں اور بین الاقوامی ہوائی اڈے بھی مختلف مواقع پر بند رہے ہیں۔
