کراچی (اسٹاف رپورٹر)تعلیمی ادارے کھیلوں کی سر گرمیوں سے منظم و مر بوط ہوتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہاکی کے زیر اہتمام کراچی ہاکی ایسو سی ایشن کے اشتراک سے منعقدہ چو تھے پاکستان ہاکیز گلوری اسکول ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کے مہمان خصو صی سر سید یو نیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لو جی کے وائس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر ولی الدین نے تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہو ئے کیا ۔ انھوں نے کہاکہ تعلیمی اداروں کو منفی سر گر میوں کے چنگل سے چھڑانے کے لئے طلبا ء کو کھیلوں کی مثبت سر گر میوں کی فراہمی ہی واحد حل ہے ۔ تعلیم اور کھیل کا حسین امتزاج ہمیشہ ایک متوازن شخصیت کی صورت میں نظر آتا ہے ہماری یونیورسٹی کھلاڑیوں کی سر پرستی کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی ۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہاکی کا اسکولوں کی سطح پر ہاکی کے فروغ کا منصوبہ قومی کھیل کو آکسیجن فراہم کرے گا ۔ اور اس کے تن مردہ میں نئی جان ڈال دے گا ۔ قومی خدمت کا مثبت راستہ اپنا کر وطن سے محبت کا ثبوت پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہاکی کی طرح ہم سب کو دینا چاہئے ۔ کراچی ہاکی ایسو سی ایشن کے چیئرمین گلفراز احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسکول ٹورنامنٹ کا تسلسل ہاکی کے مستقبل کیلئے ہم پاکستان ہاکی کی بحالی و فروغ میں کئے جانے والے اقدامات کی ہمیشہ پذیرائی کرینگے ۔ تقریب سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہاکی کے چیئرمین رانا مشتاق احمد ، صدر زاہد شہاب ، بانی و اعزازی سیکریٹری جنرل پرو فیسر راؤ جاوید اقبال اور ریاض الدین نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر سر سید یونیورسٹی کے رجسٹرار سر فراز علی ، ڈائریکٹر اسپورٹس انٹر نیشنل ہاکی کھلاڑی مبشر مختیار ، کو آرڈینیٹر قاضی ابصار ، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر اسپورٹس خرم عارف ، ایاز منشی ، سندھ اولمپک ایسو سی ایشن کے سیکریٹری احمد علی راجپوت ، پاکستان اسٹیل اسپورٹس بورڈ کے سیکریٹری سید سہیل احمد ،یوسی چیئرمین راؤ محمد اقبال ، انٹر نیشنل کھلاڑی پر ویز اقبال ، خالد پراچہ ، اور ابو ذر اُمراؤ ، ڈی ایس پی راؤ محمد یونس ، نیشنل بینک آفیسرز فیڈ ریشن کے سیکریٹری جنرل رستم علی ، لطیف قریشی ، سندھ ٹینس ایسو سی ایشن کے خالد رحمانی ، رئیس خان ، عرفان علی و دیگر بھی موجود تھے ۔ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ غلامان عباس اسکول اور حبیب پبلک اسکول کے مابین انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز رہا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے خوبصورت کھیل کا مظاہرہ کر کے تماشائیوں کے دل موہ لئے ۔ کانٹے دار مقابلے میں ایک دوسرے کے گول پوسٹ پر تا بڑ توڑ حملے کئے گئے جو دفاعی کھلاڑیوں کی کامیاب حکمت عملی سے ناکام ہوتے رہے کھیل کے بتیسویں منٹ میں غلامان عباس اسکول کے کھلاڑیوں نے ایک کوبصورت موو بنائی جس کے نتیجے میں کمیل عباس نے کھیل کا واحد گول کر کے اپنی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر چیمپئن بنا دیا ۔ امپائرنگ کے فرائض اصغر علی اور اسلام اللہ نے انجام دئیے ۔ تقریب تقسیم انعامات میں دونوں ٹیموں کو ٹرافیز ، میڈلز اور سر ٹیفکیٹ دئیے گئے ، جبکہ ٹورنامنٹ بہترین کھلا ڑی نوشاد علی کو قرار دے کر ٹرافی دی گئی ۔
