دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں روسی فوج نے رقہ صوبے کے شہر عین عیسیٰ میں اچانک ترک فوج اور اس کی حلیف ملیشیا پر بمباری شروع کردی۔ شام میں انسانی حقوق کے گروپ المرصد کے مطابق روسی فوجی اڈے کی جانب سے شامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر 5راکٹ داغے گئے۔ ادھر ترک فوج نے بھی برابر کا جواب دیتے ہوئے 5میزائل داغے،جو روسی اڈے کے احاطے میں گرے۔ المرصد کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کی صبح روسی فوج اور امریکی حمایت یافتہ شامی جمہوری فوج کے درمیان اجلاس ہواتھا،جس میں طے کیا گیا کہ ترک فوج اور اس کے حامی گروپوں کے پیچھے نہ ہٹنے کی صورت میں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں شام میں دہشت گرد گروہوں کی معاونت کر رہے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ صدر ماکروں اپنے صدارتی محل میں دہشت گردوں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ فرانس کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ترکی بھی نیٹوکا رکن ہے اور اپنے حلیفوں کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ واضح رہے کہ صدر ماکروں نے حال ہی میں ترکی کی جانب سے شام کے سرحدی علاقوں میں کرد جنگجووں کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی پر تنقید کی تھی۔
