سندھ کے ضلعی دفاتر کو گذشتہ 5 ماہ سے بجٹ نہیں مل سکا، ریجنل اور ضلعی دفاتر کو شدید مشکلات کا سامنا، دفتری امور سمیت تمام معاملات متاثر ہونے لگے
کئی دفاتر میں اسٹیشنری بھی ختم، افسران کو کام کرنے میں دشواری کا سامنا، الیکشن کمیشن کے 90 فیصد دفاتر نجی عمارتوں میں کرائے پر قائم ہیں، ضلعی افسر کا انکشاف
کراچی (اسٹاف رپورٹر)الیکشن کمیشن آف پاکستان میں مالی بحران شدت اختیار کر گیا۔ سندھ کے ضلعی دفاتر میں گزشتہ 5 ماہ سے بجٹ نہیں مل سکا ہے جس کے باعث الیکشن کمیشن کے ریجنل اورضلعی دفاترشدیدمشکلات کا شکار ہیں اور دفتری امور سمیت تمام معاملات متاثر ہونے لگے جبکہ کئی دفاتر میں اسٹیشنری بھی ختم ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن کراچی کے ایک ضلعی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ الیکشن کمیشن میں بجٹ بحران شدت اختیار کر گیا ہے کئی ضلعی دفاتر کو گزشتہ 5 ماہ سے بجٹ جاری نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث نا صرف دفتر ی امور متاثر ہو رہے ہیں بلکہ افسران کوکام کرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 90 فیصد دفاتر نجی عمارتوں (پرائیویٹ بنگلوز) میں قائم کئے گئے ہیں جوکہ کرائے پر ہیں اور گزشتہ 5ماہ سے ان کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا جا سکا ہے اس ضمن میں ضلعی افسران شدید پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اپنے ضلعی دفاتر کو بجٹ کی رقم جاری نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے ضلعی دفاتر میں سر کاری گاڑیوں کے پیٹرول (فیول)، موبائل، آئل ا ور مینٹیننس، آفس میں دفتری جنریٹر، آفس بوائے (کنٹریکٹ پر تعینات خاکروب) اور اسٹیشنری میں بھی کچھ نہ ملنے سے ضلعی دفاتر سخت پریشانی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ضلعی افسر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام عملہ بہت پریشان ہے اور خاکروب کو پانچ ماہ سے تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئی ہیں۔ ایک افسر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پہلے کبھی ایسانہیں ہوا۔ مالی بحران کے باعث پہلی ایسا ہو رہا ہے کہ ریگولر بجٹ پانچ ماہ تک جاری نہ ہو۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک سی ای آر ایس (CERS) کے مشکل ترین کام کو قلیل وقت میں سر انجام دینے پر بھی کوئی مالی فنڈ (آنریریم) اسٹاف اور افسران کیلئے طے نہیں کیا۔ واضح رہے کہ CERS کے تازہ کام کیلئے ملک بھر میں ضلعی الیکشن کمیشن کے دفاتر رات دیرتک کھلے رہے اور ہفتہ اتوار کی چھٹی بھی دفتری کام کو وقت پر نمٹانے کیلئے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نئے ایس او پیز کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان ضلعی دفاتر کو خود رقم جاری کرے گا صوبائی دفتر نہیں کرے گا اور نہ صوبائی الیکشن کمشنرضلعی دفاتر کے لئے مانگ سکے گا۔نئے ایس او پیز کے بعد ضلعی دفاتر کا شدید مشکلات کا سامنا ہے۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ایک نیا فارمیٹ دیا گیا ہے جس کو بھرکر بھیجنا ہوگا اور اس کو کئی بار بھر کر باوجود بھی رقم جاری نہیں ہو سکی ہے۔ضلعی دفاتر بہت مشکل سے اپنے معاملات کو چلا رہے ہیں جبکہ ضلعی افسران کی جانب سے کئی بار الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہیڈ کو لیٹر لکھے گئے لیکن ابھی تک بجٹ جاری نہیں ہوسکا ہے۔

