مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے شمالی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے ایک بڑے تعمیراتی منصوبے کی تیاری شروع کی ہے جس میں 11 ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ عبرانی اخبار یسرائیل ہیوم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی وزارت ہائوسنگ نے شمالی بیت المقدس میں عطاروت صنعتی زون میں 11 ہزار نئے مکانات کی تعمیر کی اسکیم پر کام شروع کیا ہے۔ نئی یہودی کالونی قلندیا اور رام اللہ کے درمیان قائم کی جائے گی۔ اخبار کے مطابق شمالی بیت المقدس میں مذکورہ تعمیراتی منصوبہ ماضی میں عالمی دبائو کی وجہ سے روک دیا گیا تھا، تاہم امریکا کی فلسطین میں یہودی آباد کاری سے متعلق تبدیل ہونے والی پالیسی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کی کھلم کھلا طرف داری اور یہودی بستیوں کی تعمیرکی حمایت کے بعد اسرائیل نے اس منصوبے پرعمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی حکومت نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ یہودی آباد کاری کی روک تھام کے لیے اپنی قراردادوں پر موثر طریقے سے عمل درآمد کرائے۔ فلسطینی وزارت انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قضیہ فلسطین سے متعلق منظور کی گئی قراردادوں پرعمل کرانا اقوام متحدہ کی آئینی، سیاسی اور سفارتی ذمے داری ہے۔ اُدھر عرب پارلیمان نے قاہرہ میں اپنے اجلاس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو حق خود اردایت دلانے کے لیے اپنی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی ذمے داریاں پوری کرے ، تاکہ فلسطینی عوام کو حق خودارادیت کے ساتھ ان کے تمام جائزحقوق ،آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور مقبوضہ بیت المقدس کو اس ریاست کا دارالحکومت بنایا جاسکے۔
