پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) مغربی دفاعی اتحادی نیٹو کے آیندہ ماہ شروع ہونے والے سالانہ سربراہ اجلاس سے قبل 2اہم رکن ممالک ترکی اور فرانس کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ شمال شام میں کردوں کے خلاف انقرہ کی کارروائی پر تنقید کرکے فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے کشیدگی کی ابتدا کی۔ ان کے جواب میں پہلے ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو اور دیگر حکام کی جانب سے جوابات سامنے آئے، بعد ازاں صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں فرانسیسی صدر کی مذمت کرکے بھرپور رد عمل دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق فرانس نے پیرس میں تعینات ترک سفارت کار کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے احتجاجی مراسلہ تھمادیا، جس میں واضح کیا گیا کہ صدر ماکروں کا بیان حکومت کاسرکاری موقف تھا، جب کہ ترک صدر نے اس کے جواب میں ان کی توہین کی ہے۔ نیٹو کے سربراہ ژینس اسٹولٹن برگ سے پیرس میں ملاقات کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں صدر ماکروں نے ترک حکومت کے اقدامات کو احمقانہ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب ترک صدر کا ردعمل میں کہنا تھا کہ صدر ماکروں کو سب سے پہلے اپنی دماغی موت کا جائزہ لینا ہوگا۔ یہ بیانات صرف ایسے لوگوں کے لیے موزوں ہیں جو دماغی طور پرمردہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انہیں ماکروں کی دماغی حالت پر شک ہے اور وہ نیٹوکے اجلاس میں بھی یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہیں گے۔ نیٹو کا سربراہ اجلاس 3دسمبر کو لندن میں شروع ہوگا۔
