
بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی شہر کرکوک کے مرکزی علاقے میں بیک وقت 3 دھماکوں میں 16 افراد زخمی ہو گئے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق کرکوک کے احمد آغا بازار میں 2 جبکہ دومیز محلے میں ایک دستی بم کا یکے بعد دیگر ے دھماکا کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان بموں کو پہلے سے علاقوں میں نصب کیا گیا تھا اور اس میں عام شہریوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ دھماکوں کی ذمے داری کسی گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔ دریں اثنا نجف اور ذی قار میں گزشتہ دنوں کے دوران احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کا سوگ منایا جا رہا ہے۔ اس دوران ناصریہ شہر میں ہفتے کی صبح مظاہرین نے الحضارات، النصر اور الزیتون پلوں کو احتجاجاً بند کر دیا جبکہ دوسری جانب مظاہرین کی جانب سے صوبہ ذی قار کی پولیس کے ہیڈ کوارٹر کے آگے دھرنا جاری ہے۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل اس مقام پر مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ عراق میں انسانی حقوق کے کمیشن نے ذی قار میں قتل و غارت کی نئی لہر سے خبردار کیا ہے ۔ کمیشن نے مظاہرین کے نمائندوں، قبائلی عمائدین اور مذہبی شخصیات سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تا کہ صوبے میں جاری خون ریزی کو روکا جا سکے۔ اس سے قبل نجف اور ذی قار کی مقامی انتظامیہ نے دونوں صوبوں میں خوں ریز تشدد کی لہر کے بعد 3روز کے سوگ کا اعلان کیا تھا۔ جمعرات کے روز سے نجف اور ناصریہ شہروں میں سیکورٹی فورسز اور مسلح عناصر کی فائرنگ کے نتیجے میں 70 مظاہرین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جب کہ سیکڑوں زخمی بھی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے ملک گیر عوامی احتجاج کے دوران اب تک یہ تشدد کا خون ریز ترین واقعہ ہے، جبکہ مظاہرین اور سیاسی رہنماؤں کے مطالبے کے بعد جمعہ کے روز عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے اپنے عہدے سے استعفا دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 400 سے زیادہ مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
