English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ شمالی کوریا مذاکرات کی سست روی پر جنوبی کوریا کی مایوسی

القمر

جنوبی کوریا کے صدر کے ایک سینئر ایڈوائزر نے شمالی کوریا سے متعلق امریکی پالیسی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو پیانگ یانگ سے نمٹنے کے لیے زیادہ ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں جیونگ سی ہیون نے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہیئے کو شمالی کوریا کو اپنے جوہری ہتھیار ترک کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے زیادہ پرکشش ترغیبات دے۔ سی ہیون جنوبی کوریا کے صدر مون جایے ان کے مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے کہ بظاہر تو آپ گاجر کی پیش کش کر رہے ہوتے ہیں لیکن اصل میں آپ کی جانب سے چھڑی کا استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کو چاہیے کہ شمالی کوریا کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ایسی ترغیبات دے جو اس کے لیے جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہوں۔

جیونگ کے تبصرے ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب امریکہ کے شمالی کوریا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے مزید مراعات کی اختتام سال ڈیڈ لائن ختم ہونے والی ہے۔

شمالی کوریا نے دھمکی دی ہے کہ وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل یا جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کر سکتا ہے جو اسے باز رکھنے کے لیے دو سال سے جاری سفارت کاری کی ناکامی کے متراف ہو گا۔

اس کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا میں کشیدگیاں لوٹ سکتی ہیں جو جنوبی کوریا کے لیے صدر مون کے لیے سیاسی دھچکہ ہو گا جو شمالی کوریا کے ساتھ معاملات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

مذاکرات ٹوٹنے کے امکان کے پیش نظرشمالی کوریا اپنے جنوبی ہمسائے جنوبی کوریا پرنکتہ چینی کرتے ہوئے یہ کہہ چکا ہے کہ وہ بین الکوریائی منصوبوں سے انکار کر سکتا ہے۔

جیونگ کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کے ثالث کے کردار کو مسترد کرتا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ جنوبی کوریا کو بااختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرے۔ صرف اسی صورت میں امریکی صدر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے عہدے دار کئی مہینوں سے جوہری مذاکرات کی سست روی کی شکایت کر تے ہوئے کہہ رہے ہیں کہا امریکہ کی جانب سے پابندیاں نرم کرنے سے انکار نے انہیں دونوں کوریاؤں کے درمیان اس معاہدے پر پیش رفت سے روک رکھا ہے جس پر 2018 میں دستخط ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے