English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت میں مائونواز باغیوں کے نام پر شہریوں کا قتل عام

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ایک عدالتی تفتیشی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چند برس قبل سیکورٹی فورسز نے جن 17 افراد کو ہلاک کر کے ماؤ نواز باغی قرار دیا تھا، وہ مقامی گاؤں کے عام شہری تھے۔ چھتیس گڑھ کی ہائی کورٹ کے ایک جج کی زیر نگرانی ہونے والی تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہلاکتوں سے متعلق سیکورٹی فورسز کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ واقعہ 28جون 2012ء کی شب کا ہے، جب ریاست چھتیس گڑھ کی پولیس اور سی آر پی ایف (سینٹرل ریزرو پولیس فورسز) نے ضلع بیجا پور کے سرکیگوڑا گاؤں میں 17 ماؤ نواز باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں 6 نابالغ بھی شامل تھے۔ سیکورٹی فورسز کا کہنا تھا کہ گاؤں والوں نے ان پر فائرنگ کی تھی اور سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 17لوگ مارے گئے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے زبردست ہنگاموں کے بعد حکومت نے ریاست مدھیہ پردیش کی ہائی کورٹ کے جج سے اس کی تفتیش کرنے کا کہا تھا۔ جسٹس وی کے اگروال کی سربراہی میں کمیشن نے اپنی تفتیشی رپورٹ اکتوبر میں سونپ دی تھی، جسے 2 دسمبر کو بحث کے لیے ریاستی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اب اسے محکمہ قانون کے حوالے کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گاؤں والوں کی جانب سے نہ ہی کوئی فائرنگ کی گئی تھی اور نہ ہی تصادم ہوا تھا، بلکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے صاف واضح ہے کہ فورسز نے وہاں موجود ہجوم پر بہت قریب سے گولیاں چلائیں اور اس بات کے بھی کوئی شواہد نہیں ہیں کہ وہاں پر ماؤ نواز باغی تھے۔ سیکورٹی فورسز کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے کہ اس مبینہ جھڑپ میں 6 سیکورٹی اہل کار بھی زخمی ہوئے تھے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ وہ رات کے تقریباً 10 بجے آیندہ روز ہونے والے مقامی تہوار بیج پنڈم کی تیاریوں کے سلسلے میں جمع ہوئے تھے اور سیکورٹی فورسز نے ان کا محاصرہ کر کے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کیس سے وابستہ انسانی حقوق کی خاتون وکیل ایشا کھنڈیلوال کا کہنا ہے کہ ماؤ نوازوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کی طویل تاریخ میں تفتیش کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران ان کی ٹیم پر بہت دباؤ تھا، لیکن اس کے نتائج بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اب قصور واروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، انہیں گرفتار کیا جائے، دوبارہ تفتیش ہو، ان کے خلاف مقدمہ چلے اور انہیں سزا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے