واشنگٹن/ بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کے لیے فوجی امداد بحال کر دی۔ اس امداد کا حجم 10کروڑ امریکی ڈالر سے زائد ہے۔ اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ نے 31 اکتوبر کو کانگریس کو مطلع کیا تھا کہ لبنان کے لیے امداد معطل کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کی گئی تھیں۔ ارکان کانگریس نے لبنانی سیکورٹی امداد کی معطلی پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ یہ امداد ایک ایسے وقت پر بحال کی گئی ہے، جب لبنان میں بد عنوانی اور بے روزگاری کے تناظر میں حکومت مخالف مظاہروں کی وجہ سے حکومتی نظام تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ لبنانی وزیراعظم سعد حریری منصب سے مستعفی ہوچکے ہیں اور لبنانی صدر نئے وزیراعظم کے لیے مشاورتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب لبنان کے دارالحکومت بیروت کے نواح میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں کئی فوجی زخمی ہوگئے۔ لبنانی فوج نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ فوجیوں نے پیر کی شب بیروت کے جنوب میں واقع شاہراہ نیمہ کو کھلوانے کی کوشش کی تو مظاہرین ان پر پل پڑے اور پتھراؤ شروع کردیا۔ بیان کے مطابق مظاہرے میں شریک ایک شخص نے بندوق سے فائرنگ کردی، جس کے فوری بعد فوج نے بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران مظاہرین نے شمالی شہر طرابلس سمیت مختلف شہروں میں شاہراہیں بند کرنے کی کوشش کی۔
