واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایغور مسلمانوں کی شناخت مٹانے کے لیے سنکیانگ صوبے میں ان کی عبادت گاہیں مسمار کر رہے ہیں۔ وائس آف امریکا سے بات کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کے عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے جہاں ایک طرف ایغور مسلمانوں کی نگرانی انتہائی سخت کی ہوئی ہے، وہیں وہ ان کی عبادت گاہوں کو بھی ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیجنگ نے سنکیانگ میں کئی مساجد، مزار، قبرستان اور دیگر مذہبی مقامات یا تو بند کر دیے ہیں یا انہیں مسمار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی عبادت گاہوں کی کیمروں کے ذریعے انتہائی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ جس سے اقلیتی ایغور مسلمانوں کو عوامی طور پر اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ چین کے سنکیانگ صوبے میں ایغور اقلیت اور دیگر ترک قومیتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ مسلمان مقیم ہیں۔ چینی حکومت پر امریکا اور کئی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ بیجنگ ایغور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہا ہے اور کئی لاکھ افراد کو حراستی کیمپوں میں قید رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب چین کا مؤقف ہے کہ یہ حراستی مراکز نہیں ہیں بلکہ پیشہ ورانہ تربیتی مراکز ہیں جہاں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مقامی افراد کو رکھا جاتا ہے اور انہیں مختلف ہنر اور علوم کی تربیت دی جاتی ہے۔
