کریم کمپنی میں پندرہ ہزار سے زائد گاڑیاں ہیں وہ بند ہوئیں تو ہزاروں لوگ بیروزگار اور فاقہ کشی کا شکار ہوجائیں گے ٗ کمیشن کی مد میں منافع فکسڈ کیا جائے
گاڑیاں چلانے والاے کمپنی کی جانب سے بونس میں کمی اور جرمانے قبول نہیں کرینگے ٗ رہنمائوں کی پریس کلب میں نیوز کانفرنس اور مظاہرے سے خطاب
کراچی(اسٹاف رپورٹر) آن لائن ٹیکسی چلانے والے ڈرائیوروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو گورنر ہائوس اور وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے احتجاج کیا جائیگا ۔کمپنی کی جانب سے بونس میں کمی اور جرمانے قبول نہیں ہیں۔ پیر کو کراچی پریس کلب میں خواجہ محمدعمر نے محمد عمیر بھگت‘ نعیم آرائیں‘ حشمت احمد‘ محمد آصف‘ اصغر علی و دیگر کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں اس وقت کریم کمپنی میں15ہزار سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جس سے ہزاروں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے‘ا گر گاڑیاں بند ہوئیں تو بڑے پیمانے پر لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوںگے‘ انہوں نے کہا کہ کریم کیپٹن سے اپنا منافع فکس کرے‘ کمیشن کی مد میں جو کہ10فیصد کریم اور5فیصد سندھ گورنمنٹ ٹیکس جو کہ ٹوٹل15فیصد ہوئے باقی85 فیصد ہم چار حصوں میں تقسیم کریں گے‘25فیصد وینڈر25فیصد آل فیول10فیصد مینٹی ننس اور25 فیصد کیپٹن‘ بونس کی کنڈیشن ریٹنگ اور ایکسپینڈ سے ہٹا کر نمبر آف کمپلیٹ رائیڈ اور ارننگ پر رکھی جائے یا بونس ختم کرکے کرایہ بڑھادیا جائیگا انہوں نے کہا کہ آن لائن ٹیکسی کمپنیاں کسٹمز ویٹنگ سہولت ختم کریں نہیں تو ویٹنگ ریٹ بڑھایا جائے۔ کسٹمر کی جھوٹی سچی شکایات پر جرمانہ نہ لگایا جائے اور نہ ہی کیپٹن اس حوالے سے معلومات حاصل کی جائیں انہوں نے کہا کہ کسٹمر کی جانب سے جھوٹی شکایات پر جتنے کیپٹن کی آئی ڈی بلاک ہیں انہیں دوباارہ مستقل بحال کیا جائے ‘رائڈ کو کینسل کرنے کا جتنا حق کسٹمر کو ہے اتنا ہی یہ کیپٹن کو بھی بنیادی حق ہے جو کیپٹن کو کریم ایپ پر ہی ہر رائڈ پر دیا جائے۔ اس موقع پر احتجاجی ڈرائیورز کا کہنا تھا کہ کمپنی ڈرائیوروں کا کمیشن کی مد میں منافع فکس کیا جائے۔ وہ کمیشن کی مد میں10 فیصد کو جبکہ5فیصد سندھ حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ15 فیصد ٹیکس ادا کرنے کے بعد85 فیصد کو4حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ آن لائن ٹیکسی کمپنی اپنی پالیسی ٹیم کے ساتھ ہماری دس رکنی ٹیم کے ساتھ مل کر پالیسی مرتب کرے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کئے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔

