English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ حکومت نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے 2725 ملین کے فنڈز روک لئے

گذشتہ مالی سال برائے 2018-19 کی چوتھی قسط 625 ملین اور بلاک ایلوکیشن کے 850 ملین کی رقم جاری نہیں کی جاسکی
کے ایم سے کے زیر انتظام تعمیراتی اسکیموں کے کنٹریکٹرز میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور شدید مالی بحران کا شکار ہیں، ایس ایم نعیم کاظمی
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) حکومت سندھ کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو نہ ملنے والے فنڈزکی کل رقم 2725 ملین ہو گئی بلدیہ عظمی کراچی (کے ایم سی) کو گزشتہ مالی سال برائے 2018-19 کی چوتھی قسط اور جاری شدہ مالی سال برائے 2019-20کی ڈسٹرکٹ اے ڈی پی اقساط کے عدم اجرا پر معاشی بحران کے جنم دینے لگا جس پر کنٹریکٹرز شدید پریشان ہیں کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کا ایک اہم اجلاس ایسو سی ایشن کے چیئرمین ایس ایم نعیم کاظمی کی زیر صدارت منعقد ہوا اور کہا گیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے بلدیاتی اداروں کو فنڈز جاری نہ کرکے انتہائی زیادتی کی جارہی ہے جبکہ ان فنڈز کے ٹینڈرز روزانہ مختلف اداروں کی جانب سے ٹینڈرز کی طلبی اور ورک آڈرز کے اجراء کا سلسلہ جاری ہے اور ان ورک آرڈرکے تحت کنٹریکٹرز پر کام کروانے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت حکومت سندھ کی جانب سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے گزشتہ مالی سال برائے 2018-19 کی چوتھی قسط 625 ملین اور بلاک ایلوکیشن کے 850 ملین کی رقم جاری نہیں کی جاسکی۔اس کے علاوہ نئے مالی سال برائے 2019-20 کی ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی مد میں جولائی۔اگست 2019 میں جاری ہونے والی 625 ملین کی قسط کا اجراء نہ ہوسکا اور اسے مختلف بہانوں سے ٹال مٹول کیا جارہا ہے۔جبکہ اب نومبر۔دسمبر میں جاری ہونے والی تیسری قسط کا وقت بھی گزررہاہے۔ اس طرح بلدیہ عظمیٰ کراچی کو نہ ملنے والے فنڈزکی کل رقم 2725 ملین ہو گئی ہے جس کی وجہ سے کے ایم سی کے زیر انتظام تعمیراتی اسکیموں کے کنٹریکٹرز میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے