English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت میں عصمت دری کی شکار لڑکی کو آگ لگادی گئی

القمر

لکھنؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتمیں عصمت دری کا شکار ہونے والی ایک 23 سالہ لڑکی کو عدالت جاتے ہوئے راستے میں آگ لگا دی گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ بھی ریاست اتر پردیش کے ضلع اناؤ میں پیش آیا، جو آج کل ایک اور زیادتی کیس کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ نذرِ آتش کی گئی لڑکی نے رواں برس مارچ میں 2 افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور وہ اسی کی سماعت کے لیے عدالت جا رہی تھی کہ اس نئے ظلم کا نشانہ بنا دی گئی۔ اس وقت وہ انتہائی نازک حالت میں سپتال میں زیر علاج
ہے۔پولیس کے مطابق خاتون کو آگ لگانے کے شبہے میں 5 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں اس کی عصمت دری کرنے والے 2 ملزم بھی شامل ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق لڑکی ریلوے اسٹیشن کے راستے میں تھی جب مردوں کے ایک گروپ نے اس پر حملہ کیا اور اسے گھسیٹ کر قریبی کھیت میں لے گئے، جہاں اسے آگ لگا دی گئی۔ پولیس نے جولائی میں حکمراں جماعت کے ایک قانون ساز کے خلاف اس وقت قتل کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جب اس پر زیادتی کا الزام لگانے والی ایک خاتون کار حادثے میں شدید زخمی ہوگئی تھی۔ اس واقعے میں خاتون کی 2 رشتے دار ہلاک اور ان کا وکیل زخمی ہوگیا تھا۔27 نومبر کو جنوبی ریاست تلنگانا کے دارالحکومت حیدرآباد دکن میں جانوروں کی ایک 27 سالہ ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد اسے زندہ جلانے کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جس پر ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں دسمبر 2012ء میں ایک خاتون کے ساتھ بس میں اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد خواتین کے ساتھ زیادتی اور جنسی تشدد توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین کے خلاف ہونے والے ان جرائم میں کمی نہیں آرہی ہے۔تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2017ء میں پولیس نے زیادتی کے 33ہزار 658 کیس رجسٹر کیے، یعنی روزانہ کی بنیاد پر زیادتی کے تقریباً 92 واقعات پیش آئے۔
عصمت دری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے