تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ سلطنت عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی کے دورۂ تہران کے موقع پران سے ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو مل کر امن واستحکام کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ایرانی صدر نے امریکا اور یورپ پر زور دیا کہ وہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے ایران کے اصولی مطالبات تسلیم کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور یورپ یمن میں امن نہیں چاہتے، بلکہ ان کی توجہ اپنا اسلحہ فروخت کرنے پر مرکوز ہے۔ اس سے قبل عمانی وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے تہران میں ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی مسائل اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بن علوی نے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی سے بھی ملاقات کی۔ دوسری جانب امریکی وزارت دفاع ’’پینٹاگون‘‘ کی میڈیا ترجمان الیسا فرح کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بے بنیاد ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں 14 ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ترجمان نے لکھا کہ ہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اس سلسلے میں سامنے آنے والی رپورٹ غلط ہے۔ امریکا اپنے 14 ہزار اضافی فوجی مشرق وسطیٰ ہر گز نہیں بھیجے گا۔
