English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بجٹ 2026-27 : سونے کی فروخت پر نیا ٹیکس، معاشی تجزیہ کار نے خبر دار کردیا

القمر
اشتہار

بجٹ 2026-27 : سونے کی فروخت پر نیا ٹیکس، معاشی تجزیہ کار نے خبر دار کردیا

اشتہار

حیرت انگیز

مگرمچھ کے جبڑے میں پھنسا بچہ کیسے زندہ بچا؟ دل دہلا دینے والا واقعہ

شہری نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑا حادثہ ہونے سے بچا لیا، ویڈیو وائرل

ویڈیو:‌ پیراگلائیڈر تعمیراتی ٹاور کرین میں پھنس کر فضا میں لٹک گیا

طاعون کی وبا ہزاروں سال قبل کیسے پھیلی؟ قبرستان سے ملنے والے حیران کن شواہد

اسلام آباد : رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے کہا ہے کہ گھر کا سونا بیچنے پر بھی 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس کا نفاذ سمجھ سے بالاتر ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 میں نئے ٹیکسز کے نفاذ، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے متعلق مختلف پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں پر بحث و مباحثے جاری ہیں۔

اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار ایس ملک نے اس مسئلے پر اپنا مفصل تجزیہ پیش کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔

سونے پر کیپٹل گین ٹیکس

انہوں نے سونے کی فروخت پر عائد 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس پر بھی سوالات اٹھائے، ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاندان کے پاس کئی سال پہلے خریدا گیا یا وراثت میں ملا سونا موجود ہے اور وہ اسے فروخت کرنا چاہتا ہے تو اتنی بلند شرح سے ٹیکس عائد کرنا سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔

زیادہ ٹیکس، کم ٹرانزیکشنز اور کم ریونیو

ٹیکس سے متعلق کیے گئے ایک سوال پر ایس ملک نے جائیداد کے شعبے میں عائد مختلف ٹیکسوں، خصوصاً سیکشن 236 سی اور 236 کے کے اثرات کے بارے میں کہا کہ ٹیکسوں میں اضافے کے باعث جائیداد کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف لین دین ہی کم نہیں ہوا بلکہ حکومت کی آمدنی بھی متاثر ہوئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے حاصل ہونے والا سرکاری ریونیو تقریباً 29 سے 35 فیصد تک کم ہوا ہے، جس کے بعد ہی حکومت کو اس شعبے کی اہمیت کا احساس ہوا۔

رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر کو ’غیر پیداواری شعبہ‘ قرار دے کر نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں سست روی پیدا ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جب کاروباری حلقے اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد مسلسل حکومت کو اس شعبے کی اہمیت سے آگاہ کر رہے تھے، اس وقت بیورو کریسی، ایف بی آر اور بعض حکومتی حلقے اسے غیر پیداواری شعبہ قرار دے رہے تھے، تاہم اب حکومت نے ہاؤسنگ فنانس اور دیگر پالیسیوں میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری

اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سازگار ماحول فراہم کرے تو ملک میں موجود سرمایہ مختلف شعبوں، بشمول سونا، کرپٹو کرنسی اور دیگر سرمایہ کاری ذرائع سے نکل کر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر میں منتقل ہوسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

رئیل اسٹیٹ تجزیہ کار نے تجویز دی کہ پرانے اور پہلے سے ظاہر شدہ اثاثوں پر ٹیکس کی شرح کم کی جائے تاکہ لوگ اپنے اثاثے فروخت کرکے سرمایہ معیشت کے پیداواری شعبوں میں لگا سکیں۔

رئیل اسٹیٹ ماہر نے کہا کہ دنیا بھر میں تعمیراتی شعبے کو معاشی ترقی کا اہم محرک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے درجنوں دیگر صنعتیں وابستہ ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق تعمیرات کے شعبے کی ترقی سے سیمنٹ، سریا، ٹائلز، الیکٹرک کا سامان، پینٹ، لکڑی، فرنیچر اور ٹرانسپورٹ سمیت تقریباً 45 سے 55 صنعتوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہاؤسنگ فنانس، قرضوں کی فراہمی اور ٹیکسوں میں حقیقی ریلیف دیتی ہے تو 4 فیصد معاشی شرح نمو کے حصول میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔

آدھا تیتر آدھا بٹیر پالیسی

ایس ملک نے خبردار کیا کہ اگر ایک طرف کچھ ٹیکس ختم کیے جائیں اور دوسری طرف نئے ٹیکس نافذ کر دیے جائیں تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو واضح اور مستقل پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کو مکمل اور مؤثر ریلیف دیا گیا تو ملک میں ویسی ہی معاشی سرگرمی پیدا ہو سکتی ہے جیسی 2019 اور 2020 کے دوران دیکھی گئی تھی، جس سے روزگار، سرمایہ کاری اور کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبہ پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بجٹ میں دی جانے والی مراعات اگر مؤثر انداز میں نافذ کی گئیں تو نہ صرف حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہوگا۔

شعیب نظامی
+ postsBio ⮌

Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News

اہم ترین
امریکا ایران نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے…

تیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف…

ٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد…

شعیب نظامی

شعیب نظامی

Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News
مزید خبریں

امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں کے سہولت کار کو 14 سال قید کی سزا

الحمداللہ، پاکستان کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی، فیلڈ مارشل کی وسیم بادامی سے گفتگو

پیپلز پارٹی نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کیلیے امیدوار نامزد کر دیا

ٹرانسپورٹرز کا ہڑتال سے متعلق اہم اعلان

وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کیلیے 91 کھرب 71 ارب منظور

نادرا نے پاک آئی ڈی ایپ پر ملٹیپل لاگ ان کی سہولت کیوں ختم کر دی؟

پچھلے دنوں زیادہ گفتگو اپنی بھارتی اہلیہ سے نہیں فیلڈمارشل سےکی، نائب امریکی صدر کی دلچسپ گفتگو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے