اسلام آباد (21 جون 2026): نئے بجٹ کے نفاذ کے بعد کون سی الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگے گی اور کس کو استثنیٰ ہوگا؟
پاکستان میں نئے بجٹ کا نفاذ یکم جولائی 2026 سے ہو جائے گا۔ نئے بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) بھی لگایا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں پر ایف ای ڈی کے نفاذ کا معاملہ زیر بحث آیا۔
ایف بی آر حکام نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ 75 ہزار ڈالر تک قیمت کی الیکٹرک گاڑی پر کوئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہیں ہے۔ پاکستانی کرنسی میں 2 کروڑ سے اوپر کی الیکٹرک گاڑیوں پر یہ ٹیکس لگے گا، اس سے کم قیمت والی گاڑیوں پر ٹیکس نہیں ہوگا۔
اس موقع پر رکن شاہدہ اختر نے ایف بی آر حکام سے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن پر پالیسی بتائیں، کیونکہ جب تک ملک میں الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن نہیں ہونگے تو گاڑیاں کیسے چلیں گی۔ پاکستان میں بجلی کے حالات بھی آپ کے سامنے ہیں۔
رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ حکومت کی ایک پالیسی ہونی چاہیے، الیکٹرک گاڑیوں کو پروموٹ کریں یا پھر نہ کریں۔ الیکٹرک گاڑیوں میں سے بھی لگژری کی کٹیگری نکال رہے ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی دیگر گاڑیوں کی نسبت کم ٹیکس ہے۔
ممبر کمیٹی حنا ربانی نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں آئی سی ای گاڑیوں کی نسبت کچھ مہنگی ہیں۔ آپ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس نہیں لگا سکتے یہ غلط پالیسی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ڈیوٹی پہلے موجود نہیں ہوتی تھی۔ گاڑیوں میں بڑی تیزی سے جدت آ رہی ہے، ہر 6 ماہ بعد نئی چیز آ جاتی ہے۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں
