تاجروں اور ہاکروں کیخلاف فاقہ کشی ظالمانہ آپریشن بند نہ ہوا تو 9 دسمبر کو کراچی پریس کلب پر دھرنا دے کر احتجاجی تحریک کا آغاز کرینگے
کراچی میں اب تک 20 لاکھ ہاکر کو بے روزگار کرکے فاقہ کشی کے جہنم میں دھکیلا جاچکا ہے، اسمال ٹریڈرز کے رہنمائوں کی پریس کانفرنس
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں تجاوزات کے نام پر تاجروں اور ہاکرز کے خلاف فاقہ کش ظالمانہ آپریشن بند نہ ہوا تو 9دسمبر کو کراچی پریس کلب پر دھرنا دے کر احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔ نومبر2018میں ایمپریس مارکیٹ سمیت 6500دوکانوں کو بلڈوزکیا گیا اب 20لاکھ ہاکرز کو بے روزگار کر کے سواکروڑ غریبوں کو فاقہ کشی کے جہنم میں دھکیلا جا رہا ہے۔اس ظلم اور استحصال کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ اس بات کا اعلان اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد نے سینئر نائب صدر سید لیاقت علی، عثمان شریف،بابر خان بنگش، نوید احمد، سلیم ملک، اقبال یوسف، جاوید عبداللہ جاوید اختراورعامر شیخ کے ساتھ کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تاجررہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بعض مارکیٹوں میں رات کی تاریکی میں آپریشن کرکے غریبوں کا مال لوٹ لیا گیا ہے۔ لوٹا ہوا مال واپس کیا جائے۔ تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ڈنڈے اور آپریشن کے زور پر ان سوا کروڑ لوگوں کے منہ سے نوالہ چھننا کہاں کا انصاف ہے۔ کیا حکومت ان افراد کو بے روزگار کر کے ڈاکو اور کریمنل پیدا کرنا چا رہی ہے یا ملک کی معاشی شہہ رگ کو انتشار کا شکار کرنا چاہتی ہے۔ آج سے 35سال پہلے ہر پتھارے والے کو بلدیہ عظمیٰ ٹوکن جاری کرتی تھی اور ان کا رجسٹریشن کیا جاتا تھا۔ اس سلسلے کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ راشی اہلکاروں نے اس سسٹم کو ختم کر دیا۔ اس کی بحالی سے بلدیہ عظمیٰ کو بھی آمدنی ہوگی اور چھوٹے کاروباریوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور نظم و ضبط بھی قائم ہوگا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اور بلدیہ ایسے چھوٹے تاجروں کے لئے نائٹ بازار اور ٹریڈنگ زون بنا کر ان کی حوصلہ افزائی کرے۔ ٹریفک کی روانی کے لئے ایم اے جناح روڈ سمیت تمام بڑی شاہراوں کو فوری طور پر مکمل کر کے کھولا جائے۔

