لندن(خبر ایجنسیاں )سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن کے برج اسپتال میں چیک اپ کے لیے گئے جہاں ان کا تفصیلی چیک اپ کیا گیا، جس کے بعد وہ واپس پارک لین فلیٹس پہنچ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کا لندن کے برج اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹے معائنہ کیا گیا، تاہم نواز شریف کے کون کون سے ٹیسٹ ہوئے،اس سلسلے میں تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ نواز شریف کے ٹیسٹ اور مرض کی نوعیت، تشخیص اور علاج کے بارے میںسابق وزیر اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔ادھر لندن میں صدرن لیگ شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں ڈاکٹر عدنان بتائیں گے، شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان کے رویے پر تنقید کی اورکہاکہ وزیر اعظم اپوزیشن سے بغض رکھتے ہیں، عمران خان کو قومی مسائل کا ادراک نہیں، حکومت کا اپوزیشن کو ملیا میٹ کرنے کا یک نکاتی ایجنڈا ہے، لیگی قیادت سے لندن میں جلد ملاقات ہوگی۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم کے پاکستان سے لندن پہنچنے کے بعد ان کے چیک اپ کی خبریں تو سامنے آتی رہتی ہیں مگر ان کی بیماری کی تفصیلات سے آگاہ کرنے سے گریزکیا جارہا ہے ،نوازشریف کے لندن پہنچنے پر ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا تھا کہ نواز شریف کی صحت راتوں رات ٹھیک نہیں ہوسکتی، بحالی کے عمل میں مزید کچھ ماہ بھی لگ سکتے ہیں، نواز شریف کا علاج وہیں سے شروع کیا ہے جہاں سے پاکستان میں چھوڑا گیا تھا، مشاورتی ٹیم علاج کی نگرانی کر رہی ہے، صحت کی بحالی کے عمل میں کچھ ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔ادھرشریف خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی صحت بہتر نہیں ہورہی، مکمل علاج کے لیے سابق وزیراعظم کو امریکا لیجانا پڑسکتا ہے۔خاندانی ذرائع نے بتایا کہ دماغ کو خون سپلائی کرنے والی شریان کی رکاوٹ دور کرنے کی ٹیکنالوجی برطانیہ میں بھی دستیاب نہیں ہے، اس لیے نواز شریف کو علاج کے لیے امریکا لے جایا جاسکتا ہے۔گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کائونٹ غیر مستحکم ہیں جنہیں ادویات کے ذریعے خاص لیول پر رکھا جا رہا ہے۔پی ای ٹی اسکین کی رپورٹ پر انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے دائیں بغل (رائٹ ایگزیلا)میں ایک سے زائد گلٹیاں ہیں جو بڑی ہو چکی ہیں، مرض کی مزید تشخیص جاری ہے، دماغ کو خون منتقل کرنے والی شریان کے علاج کے لیے بھی ویسکولر سرجن کی خدمات لی ہیں، ویسکولر سرجن دوبارہ نوازشریف کا معائنہ کریں گے جس میں دیکھا جائے گا کہ نواز شریف کے دماغ کی شریان کی سرجری کی جائے یا اسٹنٹ ڈالا جائے۔
