اسلام آباد(صباح نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل )کے سربراہ سردار محمد اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ اگر آج بھی یہاں کے حکمرانوں کو بلوچستان کا مسئلہ سمجھ نہیں آرہا تو پھر ان سے بڑا نااہل اور احمق کوئی نہیں ہو سکتا ۔ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ اختر مینگل نے کہا کہ جب ہمیں موقع ملے گا تو ہم اپنی بات حکومت سے منوانے کی کوشش کریں گے کیونکہ عام مواقع پر حکومت ہماری بات نہیں سنتی لیکن جب کوئی خاص موقع آتا ہے تو وہ خود دوڑتے ہوئے ہمارے پاس آتے ہیں جبکہ عام مواقعوں پر ہم ان کے دروازوں پر جاتے ہیں تو ان کو سنائی نہیں دیتا، یہ اس ملک کی سیاست کی روایت ہے اور اسلام آباد میں چند دن گزارنے سے ہم بھی کچھ سیکھ گئے ہیں،اگر حکومت کو ہماری ضروت ہے تو انہیں ہمارے پاس آنا چاہیے ، حکومت نے آئین میں ترمیم کے حوالے سے ہم سے رابطہ نہیں کیا ،ہمارے ادارے ہیں اور پارٹی ہے،اگر حکومت کوئی ترمیم لانا چاہتی تو پہلے آکر ہم سے بات کریں اور قائل کریں کہ ان ترامیم کی ضرورت کیوں ہے اگر وہ ہمیں قائل کر سکے تو پھر ہم اپنے اداروں کو قائل کریں گے اور اس کے بعد ہی ہم کوئی فیصلہ کر سکیں گے، ہم اپنی پارٹی کے اداروں کے پابند ہیں ، اگر پارٹی کہے گی کہ نہ صرف ووٹ دیں بلکہ اسمبلیوں سے استعفا دیں تو پہلے بھی ہم نے اپنی منتخب شدہ سیٹوں سے استعفے دیے اور اب بھی پارٹی کے فیصلے ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نام کے اتحادی ہیں لیکن حکومت اہم فیصلوں میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیتی، برائے نام تو لوگ شاید حکومت کے گناہوں میں ہمیں شریک کریں لیکن براہ راست ہم ان کے گناہوں میں شریک نہیں ہیں ،جب ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ حکومت ڈلیور نہیں کر سکتی تو پھر حکومت سے علیحدگی کے لیے ہمارے لیے وہی اشارہ کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو عدالت کی جانب سے سننے کے مواقع دیے گئے لیکن وہ حاضر ہی نہیں ہو رہا،اس وقت وہ صحتیاب تھا اور جاتے ہوئے اس کو صرف کمر میں چُک تھی، نومبر 1999 ء اور 3 نومبر 2007ء کے غیر آئینی اقدامات میں پرویز مشرف کے ساتھ جو سویلین اور سیاسی فورسز شامل تھیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن احتساب بلاامتیاز ہونا چاہیے جو گناہ گار ہے اور جس نے کرپشن کی ہے اس کو سزا ملنی چاہیے لیکن احتساب کی تلوار صرف اپوزیشن کی گردنیں کاٹنے کے لیے نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کوئی شوق سے نہیں کرتا ، احتجاج مجبوریوں کی وجہ سے یا ناانصافیوں کی وجہ سے ہوتا ہے ، پہلے بھی ہم نے جو احتجاج کیا تھا جو نکات ہمارے ساتھ طے کیے گئے تھے ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تھا ، نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ہم لاپتا افراد کے لیے جدوجہد اور جستجو کر رہے تھے لیکن اب تو خواتین کے لاپتا ہونے کا مسئلہ آگیا ہے،اس پر ہم احتجاج نہ کریں اور خاموش بیٹھے رہیں تو لوگوں کو کیا جواب دیں گے، کسی گھر میں اگر کوئی ملزم رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان خواتین کی سرعام وڈیو بنا کرتصویر میڈیا میں شائع کریں ، کیا وہ خواتین خود ملوث تھیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے والا اور پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والاآج عدالت کے احکامات پر واپس نہیں آتا تو ا ن بیچاری خواتین کی کون سنے گا، یہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں ان کو فی الفور رہا کیا جائے۔
اختر مینگل
