اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی ہارون الرشید کا امریکا کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی میں کوئی شبہ نہیں۔جب مذاکرات معطل ہوئے تو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب مذاکرات نہیں ہوں گے لیکن ہر شخص جانتا تھا کہ مذاکرات ہوں گے۔طالبان کو اقتدار چاہیے جب کہ امریکا بھی وہاں سے باہر جانا چاہتا ہے۔امریکا کے لیے 100بلین ڈالر کی بچت کوئی تھوڑی بچت نہیں ہے۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ امریکا افغانستان سے پوری طرح سے نہیں نکلے گا،ان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک رہے گاتاہم وہاں امریکیوں کی تعداد کم ہو جائے گی، مالی انحصار افغانستان کا امریکا پر ہی رہے گا۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ امریکا سینٹرل ایشیا کی وجہ سے افغانستان میں رہنا چاہتا ہے جہاں امریکا کو رسائی چاہیے،دوسری طرف روس ہے۔ایران اور چین بھی یہیں ہیں۔امریکا کو چین کا خوف ہے اور سی پیک کے بعد باقی دنیا کو بھی پاکستان سے خوف ہے۔چین معاشی طور پر پانچ سالوں میں امریکا سے آگے چلا گیا ہے۔چین بڑی اقتصادی قوت بن جائے گی۔اس لیے امریکا ہر حالت میں افغانستان میں رہنا چاہے گا اور یہ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں ہے،امریکا پاکستان کی مالی مدد کرے گا۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ امریکا پاکستان کو سی پیک سے بڑا پیکج آفر کر سکتا ہے لیکن پاکستان کو اس چیز میںبالکل نہیں پڑنا چاہیے، اس معاملے میں ہماری حکومت کو کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے،چین کی بات اور ہے وہ ہمارا دوست ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مدد سے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں گے اور پاکستان کے لیے سودے بازی کا یہ بہترین وقت ہے لیکن پاکستان کو چین کے خلاف کبھی نہیں جانا چاہیے۔
ہارون الرشید
