
پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور یوکرائن کے صدور نے پیرس میں ہونے والی ملاقات میں رواں ماہ ہی مشرقی یوکرائن میں جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق جرمنی اور فرانس کی مشترکہ کوششوں کے بعد پیر کے روز پیرس میں ولادیمیر یپوٹن اور وولودیمیر زیلنسکی نے پہلی بار ملاقات کی۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے پیرس مذاکراتی عمل کو 2015 ء کے منسک امن سمجھوتے کا تسلسل قرار دیا۔ فرانس، جرمنی، یوکرائن اور روس کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ فریقین نے مشرقی یوکرائن کے علاقے میں مکمل جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ جنگ بندی کے عمل کو مستحکم کرنے کے ضروری اقدامات کو بھی 2019 ء کے ختم ہونے سے قبل مضبوط کیا جائے گا۔ مذاکرات میں اتفاق کیا گیا کہ ماسکو اور کیف کی حکومتیں رواں برس کے ختم ہونے سے پہلے تمام قیدیوں کو رہاکر دیں گی، تا کہ وہ نیا سال اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ منا سکیں۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے مشرقی یوکرائن میں انتخابات کے نظام الاوقات پر ماسکو اور کیف حکومتوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے 4ماہ میں مشرقی حصے میں بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار کرنے کی امید ظاہر کی۔ پیوٹن سے ملاقات کے بعد زیلنسکی کا کہنا تھا کہ پہلی ملاقات کے حوالے سے جو توقعات کی گئی تھیں، اس کے اعتبار سے نتائج حوصلہ افزا نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑے مسائل کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
