English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جامعہ کراچی میں داخلوں کیلئے ٹیسٹ دینے والے 83فیصد طلبا فیل

نئے تعلیمی سیشن 2020کیلئے منعقدہ داخلہ ٹیسٹ کے دلچسپ اور چونکا دینے والے نتائج
ایک بار پھر اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈ سے اے ون گریڈ میں انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کرنیوالوں کے نتائج نے سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے آخر دیہی سندھ کے طلبہ جامعات کے داخلہ ٹیسٹ میں کیوں فیل ہورہے ہیں
سندھ میںسرکاری اسکولوں کے اساتذہ کیلئے ورکشاپوں اور کورسز کے انعقاد کے ذمہ دار حکام خود ہی نااہل عملہ ہی چلا رہے ہیں ٗ صورتحال بدستور برقرار ٗ اساتذہ کو تربیت دینے کے بہانے صوبائی حکومت کے کروڑوں خرچ کئے ہیں ٗ رپورٹ میںانکشاف
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)جامعہ کراچی کے تحت نئے تعلیمی سیشن 2020کے لیے منعقدہ داخلہ ٹیسٹ کے دلچسپ اورچونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں اورایک بار پھر اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈزسے ’’اے ون‘‘گریڈ میں انٹرمیڈیٹ کاامتحان پاس کرکے جامعہ کراچی میں داخلوں کے لیے درخواست دینے والے طلبامیں سے83فیصد امیدوار ٹیسٹ میں ہی فیل ہوگئے اوراندرون سندھ کے تعلیمی بورڈزسے اے ون گریڈ لینے والے محض 28.71 فیصد طلبہ نے جامعہ کراچی کاٹیسٹ پاس کیا۔ مذکورہ ڈیٹانے سندھ میں تعلیمی بورڈزکی جانب سے جاری کردہ نتائج پرایک سوالیہ نشان کھڑاکردیاہے کہ آخرسندھ کے تعلیمی بورڈزسے اے ون گریڈ میں انٹرکرنے والے طلبہ جامعات کے داخلہ ٹیسٹ میں کیوں فیل ہورہے ہیں جبکہ دوسری جانب ملک کے دیگرصوبوں کے مقابلے میں سندھ میں معیارتعلیم کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدام کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔سندھ کے سرکاری کالجوں میں تدریس کے نظام پرانگلیاں اٹھنی شروع ہوگئی ہیں۔جامعہ کراچی کے تحت بورڈ کے داخلہ امتحان میں سندھ بورڈ کے طلباکی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ ملک کی ایک اور ممتاز یونیورسٹیوں کے ایک امتحان میں ایک اور خطرناک نتائج کی زد میں آیا ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے داخلہ ٹیسٹ کے ذریعہ ہونے والے داخلہ ٹیسٹ میں اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ حکومت سندھ کے تعلیمی وعدوں کا کتنا کھوکھلا ہونا ہے۔ کوئی بھی سندھ کا تعلیمی بورڈ اس امتحان میں کامیابی کی شرح 37 فیصد سے زیادہ حاصل نہیں کرسکا ، یہاں تک کہ فیڈرل ، کیمبرج اور آغا خان بورڈ نے 70 فیصد سے زیادہ پاس کی شرح حاصل کی ہے۔اس سال میٹرک کے امتحانات نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کس طرح ناقص سندھ کے سرکاری اسکول اپنے طلبہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سال سائنس کے امتحانات کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ پاس ہونے والوں میں سے صرف نو فیصد نے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔سندھ کے اساتذہ نے بار بار پرانے نصاب پر مختلف معیاری ٹیسٹوں اور امتحانات میں سرکاری شعبے کے سرکاری اداروں کی مایوس کن کارکردگی کا الزام لگایا ہے۔ مثال کے طور پر ، یہ اس سے پہلے سامنے آیا تھا کہ اس سال میٹرک کے امتحانات میں آنے والے طلبا کو کمپیوٹر سائنس کی نصابی کتابیں پڑھائی جارہی ہیں۔تاہم ، یہ بات بھی منظر عام پر آچکی ہے کہ ان اسکولوں میں اساتذہ خود تربیت کی سطح حاصل نہیں کرتے ہیں جس کی انہیں تعلیم ہونی چاہئے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سندھ میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لئے ورکشاپوں اور کورسز کے انعقاد کے ذمہ دار حکام خود نا اہل عملہ ہی چلا رہے ہیں۔ صورتحال بدستور برقرار ہے حالانکہ اساتذہ کو تربیت دینے کے بہانے صوبائی حکومت نے کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے