English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسٹیٹ بینک کا ڈالر کی خریدو فروخت کی تفصیلات دینے سے انکار

بینک ڈیفالٹر ز کی تعداد اور حکومتی قرضے کے بارے میں ڈپٹی گورنر کی خاموشی پر سینیٹ کمیٹی آگ بگولہ
آئندہ ڈپٹی گورنرجمیل احمد کو کمیٹی اجلاس میں بلانے پر پابندی عائد کی جائے، ارکان کی درخواست
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اسٹیٹ بینک نے ڈالر کی خریدو فروخت کی تفصیلات قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دینے سے انکار کر دیا ،بینک ڈیفالٹر ز کی تعداد، مارک اپ کی شرح اور حکومتی قرضے کے بارے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر کی خاموشی پر کمیٹی آگ بگولہ ہوگئی ، کمیٹی نے کہا کہ ڈپٹی گورنر پر کمیٹی اجلاس میں پابندی لگائی جائے۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹر فارق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 20 پرائیویٹ سیکٹرز کے بینک کام کر رہے ہیں جن کی کارکردگی گزشتہ چند سالوں میں نمایاں بہتر رہی ہے۔ستمبر 2018سے ستمبر 2019تک ان کے اثاثوں میں 17.18 فیصد اضافہ ہوا ان کے ذخائر میں 17.7 فیصد اور مارکیٹ شیئر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے 4 سے 5 سالوں میں ان کی کارکردگی میں کافی بہتری رہی ہے۔دوسری جانب سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ حقیقت اس بریفنگ کے برعکس ہے ڈپٹی گورنر یہ بتائیں کہ بینک ڈیفالٹر کتنے ہیں؟ مارک اپ کی شرح پچھلے چند سالوں میں کیا تھی اور اب کیا ہے؟ سینیٹر طلحہ نے کہا کہ لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ کاروبار کے بجائے بینک میں رکھ کر مارک اپ حاصل کیا جائے، کمیٹی کو بتا یا جائے کہ حکومت کو 3 سال پہلے کتنا قرض دیا اور اب کتنا قرض دیا جا رہا ہے مگر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے ان سوالات کے جوابات دینے کے بجائے موڈیز کی رپورٹ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم موڈیز رپورٹ کے مطابق بہتری کی طرف رواں دواں ہیں،اس جواب پر سینیٹر طلحہ محمود نے شدید الفاظ میں مزاحمت کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کے لیے چیئرمین کمیٹی کو درخواست کی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ اسٹیٹ بینک پاکستان مارکیٹ سے کتنے ڈالر خرید رہا ہے ؟ کمیٹی کو آگاہ کریں اور کمیٹی کے ارکان کو یہ بھی واضح کریں کہ اسٹیٹ بینک ہفتہ وار2 کروڑ ڈالر مارکیٹ سے خرید کر اپنے ریزرو بحال رکھتا ہے جس پر ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ان سوالات پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کمیٹی کو تفصیلات کا تبادلہ کرنے سے انکار کر دیا۔ کمیٹی کے ارکان سینیٹرز سیّد شبلی فراز، مشاہد اللہ خان،انوار الحق کاکڑ، میاں محمد عتیق شیخ نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے اس رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کو درخواست کی کہ آئندہ ڈپٹی گورنرجمیل احمد کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بلانے پر پابندی عائد کی جائے،جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ایجنڈے کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے