اسلام آباد(جسارت نیوز) اسکواش کے عالمی چمپئن جان شیر خان نے اپنے چھوٹے بیٹے علی شیر خان جو کہ انڈر 19 پروفیشنل اسکواش پلیئر ہے کے ساتھ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر کاظم نیازسے اُنکے آفس میں ملاقات کی ۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے جان شیر خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں ا سکواش کے میدان میں 50سال تک راج کرنے کا اعزا زبھی پاکستان اور خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا کے پاس رہا ہے جو کہ فخر کی بات ہے۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 18سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہمیں جان شیر خان کا کوئی نعم البدل تا حال نہیں مل سکاجسکی وجہ سے اسکواش کے میدان میں پاکستان اپنا منفرد مقام کھو چکا ہے۔ دنیا میں اسکواش کے میدان میں پاکستان کا50سال تک جو کنٹرول تھا وہ جان شیر خان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ ا سکواش کو پاکستان میں دوبارہ اُٹھانے اور اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جان شیر خان کے تجربے سے فائدہ اُٹھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اُنہوں نے جان شیر خان کو یقین دلایا کہ صوبے میں بشمول تمام قبائلی اضلاع میں ا سکواش کی اکیڈمیز لانچ اور پروموٹ کی جائیں گی جسکے کے لیے گورنمنٹ آف خیبر پختونخوا اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کریگی۔ دوران ملاقات چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیازنے مزید کہا کہ ضم قبائلی علاقوں میں اسکواش کو فروغ دینے کے لیے تربیتی اکیڈمی بنانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کو تیار ہوں اور اس حوالے سے انکا تعاون جاری رہے گا۔ ملاقات میں اسکواش کے فروغ اور ترقی کے لیے فوری اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ جس میں جونیئر کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے ا سکوش اکیڈمیز اور موجودہ ا سکواش کورٹس کی تعمیر نو سمیت زیادہ سے زیادہ ٹورنمنٹس کا انعقاد اور کھلاڑیوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی پر بھی بات چیت ہوئی۔ 10 سال تک ا سکواش کی دنیا کے بے تاج بادشاہ جان شیر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت اور چیف سیکرٹری کا ا سپورٹس اور بالخصوس اسکواش کی بحالی کے لیے جو کردار رہا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کے اسکواش کے لیے یہ قابل قدر کردار مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ سابقہ عالمی چمپین جان شیر خان کے چھوٹے بیٹے علی شیر خان سے بات کرتے ہوئے چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے ان کو ہدایت کی کہ وہ بھی باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خوب محنت کرے اور انٹرنیشنل لیول پر اپنے ملک اور والد کا نام روشن کرنے کی کوشش کرے۔ڈاکٹر کاظم نیاز خود بھی ایک اچھے ا سکواش کھلاڑی رہ چکے ہیں اور ا سکواش کو بہت باریکی سے جانتے ہیں۔ جان شیر خان نے کہا کہ میرا یہ خواب ہے کہ میں بھی کوئی ایسا کھلاڑی دیکھوں جو کے میری طرح دنیا میں مسلسل کئی سال تک سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھے اور اسکواش کے میدان میں اپنے ملک و قوم کا نام روشن رکھے۔
