English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم 10 سال بعد ٹیسٹ میچ کی میزبانی کو تیار

کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم 10 سال بعد ٹیسٹ میچ کی میزبانی کیلئے تیار ہے، پاکستان اورسری لنکا کی ٹیمیں شہر قائد میں پہنچ چکی ہیں،دونوں ٹیمیں آج نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پریکٹس کرینگی،جس کے بعددونوں ٹیموں کے کپتان پری میچ پریس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

 تاریخی نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی تعمیر 1955 کے اوائل میں مکمل کی، جہاں پہلاٹیسٹ میچ 26 فروری 1955 کو روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا جو بے نتیجہ رہا۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پہلا ایک روزہ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 21 نومبر 1980 کو کھیلا گیا۔ پہلےایک روزہ میچ میں مہمان ٹیم نے 4 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی 10 سال قبل 41 ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کرچکا تھا  جبکہ  یہاں 41 ایک روزہ اور 4 ٹی 20 میچز بھی کھیلے جاچکےہیں۔ ورلڈکپ 1987 اور 1996 کے مجموعی طور پر 6 میچوں کی میزبانی کرنے والے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کو پاکستان سپر لیگ کے دو فائنلز کی  میزبانی کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہاں ایشیا کپ 2008 کے 10 میچز بھی کھیلےگئے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی کو پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ سنٹرز میں ایک منفرد مقام حاصل ہے تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنے زیادہ تر ہوم ٹیسٹ میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے ہیں۔

یاد رہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں 10 سال قبل آخری  ٹیسٹ میچ بھی پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے مابین کھیلا گیا تھا ۔ میچ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 765 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کیا جو ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا ایک اننگز میں سب سے زیادہ اسکور ہے۔ اس میچ میں مڈل آرڈر بیٹسمین یونس خان نے 313 رنز کی شاندار اننگزکھیل کرکیرئیر میں اپنی واحد ٹرپل سنچری بھی اسکور کی تھی۔

قومی کرکٹ ٹیم کا کسی بھی ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ اسکور کا اعزاز رکھنے والےنیشنل اسٹیڈیم کراچی میں باؤلنگ کےبھی خوب ریکارڈز قائم ہوئے ہیں۔نیشنل اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ لیجنڈری اسپنر عبدالقادر مرحوم کے نام ہے، جنہوں نے 13 ٹیسٹ میچوں میں 59 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

فہرست میں دوسرا نام عظیم فاسٹ باؤلر اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کا ہےجنہوں نے یہاں اپنے کیرئیر کے 11 ٹیسٹ میچوں میں 51 وکٹیں حاصل کیں۔ اس مقام پر کسی بھی ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی عمران خان کے پاس ہے۔ جو سن 1982 میں بھارت کے خلاف 60 رنز دے کر 8کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے بنایا گیا تھا۔ پاکستان کرکٹ کا ایک روشن نام سابق کپتان فضل محمود کی آسٹریلیا کے خلاف ایک میچ میں 13 وکٹیں حاصل کرنے والی یادگار پرفارمنس بھی اسی وینیو پر بنی تھی۔

واضح  رہے کہ پاکستان اور لنکن ٹائیگرز کے درمیان دوسرا ٹیسٹ معرکہ 19 سے 23 نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں منعقد ہوگا۔

دوسری جانب سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کیلئے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ 15 انکلوژرز پر مشتمل اسٹیڈیم میں کل 32 ہزار سے زائد تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اسٹیڈیم میں ڈریسنگ روم اور امپائرز روم کی تیاری کے علاوہ انکلوژرز میں سہولیات کوحتمی شکل دےدی گئی ہے جبکہ  گھاس کی کٹائی اور اسکور بورڈ کی تیاری مکمل ہے۔

کیوریٹر نیشنل اسٹیڈیم ریاض احمد کا کہنا ہے کہ عموماََ گراؤنڈ اسٹاف 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کرتا ہے تاہم ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ کے باعث ان دنوں انہیں 12 سے 14 گھنٹے بھی اسٹیڈیم میں کام کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ 19 دسمبر سے شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ تاریخی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کئی پہلوؤں سے یادگار رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے