دوائیں اور سرجیکل سامان نہ ہونے کے باعث غریب مریض باہر سے خریدنے پرمجبور
بسترخالی نہ ہونے کابہانہ کرکے مریضوں کو نجی اسپتالوں میں جانے کا مشورہ دیاجارہاہے
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) صوبہ سندھ کا سب سے بڑا سرکاری تدریسی سول اسپتال کراچی انتظامی سربراہ کی نااہلی کے باعث بدنظمی کا شکار ہوگیا ہے، دوائیں اور سرجیکل سامان نہ ہونے کے باعث غریب مریض باہر سے خود دوائیں خریدنے پر مجبور ہیں، جو مریض دوائیں اور مہنگے ٹیسٹ نہیں کرواسکتے وہ اسپتال کے شعبہ حادثات میں بغیر علاج اور تشخیص کے موت کے منہ میں جارہے ہیں ، ٹراما سینٹر اور شعبہ حادثات میں ہنگامی طبی امداد کے مریضوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے بسترخالی نہ ہونے کا بہانہ کرکے نجی اسپتالوں میں جانے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر روتھ فاؤ سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خادم حسین قریشی نے دوائوں اور سرجیکل کے ڈسپوزیبل سامان کی خریداری کیلئے مختص 42کروڑ روپے کی رقم خزانے میں موجود ہونے کے باوجود ٹینڈرکے ذریعے تاحال ایک روپے کی خریداری نہیں کی ہے۔ اسپتال کے اسٹور میں اینٹی بائیوٹک دوا کے علاوہ انسولین ، شوگر جانچنے کی اسٹرپ ، گاز ، کینولہ ، ڈسپوزیبل سرنجز جان بچانے والے انجکشن ، کینسر کے مریضوں کی خوراک کیلئے استعمال ہونے والا انشور، گلوسنا سمیت سرجری میں استعمال ہونے والا سامان، ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ میں استعمال ہونے والے کیمیکل وغیرہ جیسی اشیا چارماہ سے ختم ہوچکی ہیں۔ ایم ایس نے بغیرجواز کے گزشتہ سال دوائیں فراہم کرنے والی مختلف کمپنیوں کے 35کروڑ روپے سے زائد کے واجب الادا بلز روکے ہوئے ہیں جبکہ صفائی ستھرائی کرنے والی کمپنی سمیت نجی سیکورٹی گارڈ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لاکھوں روپے کے بلز بھی ادا نہیں کیے گئے۔

