ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس کی بحریہ نے بحیرۂ روم کے مشرق میں شام کی اسدی فوج کے ساتھ مشترکہ تربیتی بحری مشقیں کی ہیں۔ یہ مشقیں روسی بحریہ کی ایک تنصیب کے قریب کی گئیں، جن میں 2 ہزار سے زیادہ روسی اور اسد فوجیوں نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ بحریہ کے زیر انتظام کشتیوں، فریگیٹس اور طیاروں نے بھی مشقوں میں حصہ لیا۔ واضح رہے کہ روس سوویت یونین کے زمانے سے شام کے علاقے طرطوس میں ایک بحری اڈا رکھتا ہے۔ یہ سابق سوویت یونین کے باہر موجود اپنی نوعیت کی واحد تنصیب ہے۔ 2017ء میں ماسکو اور اسد حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کے تحت طرطوس میں واقع تنصیب کی لیز کے معاہدے میں 49 برس کی توسیع کر دی گئی۔ یہ معاہدہ روس کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ طرطوس میں 11 جنگی جہاز تک رکھ سکتا ہے، جن میں جوہری توانائی سے کام کرنے والے جہاز بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی سینیٹ نے شام میں اسد انتظامیہ اور اس کے حامی ممالک روس اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف اضافی پابندیوں پر مبنی قانونی بل منظور کر لیا ہے۔ بل میں شام کی لڑائی سے متعلق افراد اور اداروں کے لیے اضافی پابندیوں اور مالی کٹوتیوں کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بل میں امریکا کی وزارت خزانہ نے منی لانڈرنگ کی کارروائیوں میں شام کے مرکزی بینک کے کردار کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں شبہات سامنے آنے کی صورت میں مقامی مالیاتی اداروں کی بینک کے ساتھ خرید و فروخت کے معاملات سے متعلق زیادہ تفصیلی معلومات طلب کی جاسکتی ہیں۔ بل کی رو سے اسد انتظامیہ یا پھر شام، روس اور ایران کے نام پر کام کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والے یا ان کے ساتھ بھاری مقدار میں مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی افراد یا اداروں پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
