English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قبرض پر ہتھیاروں کی پابندی کا ممکنہ خاتمہ ،ترکی کی امریکا کو دھمکی

القمر

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا قبرص کو ہتھیاروں کی فراہمی پر لگی پابندی ختم کرتا ہے، تو یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک خطرناک پیشرفت ہو گی۔ امریکی کانگریس نے منگل کے روز قبرص کو ہتھیاروں کی فراہمی پر لگی پابندی ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ پابندی 1987ء میں لگائی گئی تھی جس کا مقصد اسلحہ کی دوڑ روکنا اور قبرص کے تنازع کو حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ جزیرۂ قبرص 1974ء سے 2حصوں میں تقسیم ہے۔ یونان کی فوجی حکومت کے ایما پر وہاں پر بغاوت کرائی گئی اور اس کے ردعمل میں ترکی نے اس جزیرے پر چڑھائی کر دی تھی۔ منگل کی رات تُرک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ امریکی کانگریس کے فیصلے کا اس جزیرے کے مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور ایک خطرناک پیشرفت کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں نکلے گا۔ امریکا کی طرف سے قبرص کو ہتھیاروں کی فراہمی پر لگی پابندی کا خاتمہ اس دفاعی اخراجاتی بل کا حصہ ہے، جسے کانگریس کے دونوں ایوان منظور کر چکے ہیں اور اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخطوں کے بعد یہ قانون کا درجہ حاصل کر لے گا۔ امریکا نے روسی میزائلوں کی خریداری کے معاملے پر ترکی پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکا اور ترکی کے تعلقات پہلے ہی سخت کشیدہ ہیں۔ اس کشیدگی کے پیچھے کئی ایک عوامل کار فرما ہیں، جن میں امریکا کی طرف سے شامی کرد ملیشیا کی حمایت جسے ترکی دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے اور ترکی کی طرف سے روسی ساختہ ایس 400 میزائلوں کی خریدنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ امریکا اس کے جواب میں ترکی کو اپنے جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے الگ کر چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے