بھینس کالونی میں لائبہ کی لاش باڑے کے ٹینک سے برآمد ہوئی تھی‘ گرفتار 8 ملزمان کو رہا کردیا گیا‘ اہل خانہ
پولیس اہلکار قتل میں ملوث افراد کو پکڑنے کے بجائے مجھے ہراساں کررہے ہیں‘ والد کی میڈیا سے گفتگو
کراچی(اسٹاف رپورٹر) بھینس کالونی میں قتل ہونے والی بچی لائبہ کے کیس میں پیش رفت نہ ہونے کے خلاف ورثا کی جانب سے بدھ کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ لائبہ کے والد نے کہا کہ 7 دسمبر کو میری بیٹی اغوا ہوئی اور 9 دسمبر کو ان کی لاش بھینسوں کے باڑے کے ٹینک سے اس کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ میری بیٹی نے جو پازیب پہن رکھی تھی وہ باڑے کے دوسرے کمرے سے ملی اور اس کی چپل اور بالٹی بھی باڑے کے ٹینک سے کا فی دور پڑی ملی ، میری بیٹی کو قتل کر کے لاش ٹینکی میں پھنکی گئی ، غسل دینے والی خواتین نے بتایا کہ میری بیٹی کے پیٹ میں پانی موجود نہیںتھا ، خدشہ ہے کہ قتل کے بعد میری بیٹی کی لاش کو ٹینک میں پھینکاگیا تھا۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر 8 ملزمان کو گرفتار کیا اور 7 دن میں ان ملزمان کو چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس گرفتارملزمان اور کیس کی پیشرفت کے بارے میں اہل خانہ کو کوئی تفصیلات نہیں بتا رہی ہے جبکہ مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بارے میں بھی والدین کو نہیں بتایا جارہا ، والد نے پریس کلب کے باہر میڈیا کو بتا یا کہ پولیس اہلکار قتل میں ملوث افراد کو پکڑنے کے بجائے مجھ کو ہراساں کررہے ہیں۔ لائبہ کے والد نے وزیر اعلی سندھ اور آئی جیسندھ سے اپیل کی ہے کہ قتل ملوث افراد کو گرفتار کرکے انہیں پھانسی دی جائے۔ بصورت دیگر ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

