سندھ اسمبلی میں مسلمانوں کیخلاف متعصبانہ قانون سازی اور دیگر مظالم کیخلاف مذمتی قرار داد منظور
مودی حکومت نے مسلمانوں کو چھوڑ کر سب کو حقوق دیئے ہیں، رکن ایم کیو ایم جاوید حنیف، بھارت نہ صرف مسلمانوں پر تشدد کررہا ہے بلکہ اب طلبہ کو بھی نشانہ بنارہا ہے، ڈاکٹر عذرا پیچوہو
کشمیر میں ظلم پر ہم مسلمان ہی نہیں انسانیت بھی شرما رہی ہے، مودی نے مسلمانوں کا قتل عام کیا، نصرت سحر عباسی، سندھ اسمبلی میں اراکین کا بھارتی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں بھارتی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی، بدھ کو بھارتی مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ قانون سازی اور دیگر مظالم کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور، قرارداد کی اہمیت کے پیش نظر قائد ایوان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عام پارلیمانی روایت سے ہٹ کر اسے خود ایوان میں پیش کیا اور قرارداد کا متن بھی انہوں نے خود ہی ڈرافٹ کیا تھا۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس اہم معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھائے۔ مذمتی قرارداد میں بھارتی مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات پر تشدد کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بھارتی مسلمانوں کو احتجاج کے حق سے محروم کیا جارہا ہے شہریت کے متنازع قانون سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اقوام متحدہ بھارت کی مذمت کرے۔ قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے جاوید حنیف نے کہاکہ بھارت نے سٹیزن ایکٹ کے تحت رفیوجیز کے ساتھ مسلمانوں کو چھوڑ کر سب کو حقوق دیے ہیں۔ مودی حکومت کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہاکہ بھارت نہ صرف مسلمانوں پر تشدد کر رہا ہے بلکہ اب طلبہ کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے بھارت کی سیکولر پالیسی مکمل طور پر فیل ہوگئی ہے اور نام نہاد جمہوریت میں مسلمان آزادی سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم عالمی برادری سے بھارت کے اس فاشزازم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور یو این میں اس عمل کے خلاف احتجاج اور آواز اٹھائی جائے، جی ڈی اے کی رکن نصرت سحر نے کہاکہ کشمیر میں ظلم پر ہم مسلمان ہی نہیں انسانیت شرما رہی ہے مودی نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔

