ڈاکٹر کلیم امام نے پبلک سیفٹی کمیشن کے اجلاسوں میں عدم شرکت کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے معذرت کرلی، وزیر اعلیٰ کی گزارش پر کمیشن نے آئی جی کیخلاف قرار داد واپس لے لی
اسلام آباد وزیر اعظم کے طلب کرنے پر گئے تھے جو مجبوری تھی البتہ یہ صرف ایک اجلاس میں ہوا تھا، آئی جی سندھ کی وضاحت، پولیس افسران کے تبادلوں کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے، ذرائع
کراچی (نمائندہ خصوصی) آئی جی سندھ اور صوبائی حکومت کے درمیان کافی عرصے سے جاری سرد جنگ کا عارضی خاتمہ ہوگیا، آئی جی سندھ نے پبلک سیفٹی کمیشن کے اجلاسوں میں عدم شرکت کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے معذرت کرلی اور وزیراعلیٰ سندھ کی گزارش پر کمیشن نے آئی جی سندھ کے خلاف قرارداد واپس لے لی ہے۔ وزیراعلیٰ ہائوس میں پہلی بار پبلک سیفٹی کمیشن کا تفصیلی اجلاس ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایجنڈے سے قبل ہی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلین کمیشن کے اجلاس میں ایک ممبر کرامت علی گزشتہ اجلاس میں آئی جی سندھ کی عدم شرکت پر قرارداد منظور ہونے کا نکتہ اٹھایا جس پر آئی جی سندھ نے اجلاسوں سے عدم شرکت کرنے اور پیشگی اطلاع نہ دینے کے نکتے پر معذرت کی، آئی جی سندھ نے وضاحت پیش کی کہ وہ اسلام آباد وزیراعظم کے طلب کرنے پر گئے تھے جو مجبوری تھی، البتہ یہ صرف ایک اجلاس میں ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کمیشن سے گزارش کی کہ آئی جی سندھ کی وضاحت کو تسلیم کرتے ہوئے قرارداد واپس لی جائے، مراد علی شاہ نے کہاکہ ہم ایک خاندان کی مانند ہیں خامیاں سب میں ہوتی ہیں۔ کرامت علی نے کہاکہ ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے، کرامت علی نے اپنی پیش کردہ قرارداد واپس لینے کی بات کی جس پر پبلک سیفٹی کمیشن نے متفقہ طور پر آئی جی سندھ کے خلاف قرارداد واپس لے لی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آئندہ کمیشن کے اجلاسوں میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں گے۔ سندھ حکومت کے ذرائع کے مطابق پولیس افسران کے تبادلوں کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔

