سیشن جج کا پی آر بانڈز لینے سے انکار‘ نیب نے ضمانت ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی
جے آئی ٹی، نیب و دیگر اداروں سے تعاون کروں گا، سوالات کا جواب دوں گا‘خورشید شاہ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا، سیشن جج کا پی آر بانڈز لینے سے انکار، دوبارہ احتساب عدالت سے رجوع کرنے کا حکم۔ نیب نے خورشید شاہ کی ضمانت کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتارپیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے اپنی ضمانت پر رہائی کے لیے احتساب عدالت کے جج امیر علی مہیسر کے چھٹی پر ہونے کی وجہ سے سکھر کی سیشن عدالت میں پیش ہو کر 50 لاکھ روپے مالیت کے پی آر بانڈز جمع کرا دیئے۔ عدالت نے ان کی ضمانت پر رہائی کے حوالے سے سماعت کی، تاہم نیب پراسیکیوٹر کی عدم موجودگی کے باعث سماعت کچھ دیر تک ملتوی کر دی گئی اور خورشید شاہ کو بانڈز پر دستخط کے بعدہسپتال جانے کی اجازت دے دی، تاہم کچھ دیر بعد نیب پراسیکیوٹر کے پیش ہونے پر دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو سیشن جج نے خورشید شاہ کی جانب سے پیش کیے گئے پی آر بانڈز لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جس عدالت نے خورشید شاہ کی 50 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی ہے اس سے رجوع کیا جائے ، آج جج چھٹی پر ہیں تو کل دوبارہ ان کی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ کراچی نے نیب کی جانب سے خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کو سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ منتقل کر دیا۔ قبل ازیں خورشید شاہ نے سیشن کورٹ میں پیش ہونے کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے احتساب عدالت کی جانب سے اپنے ضمانت کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ریلیف ملنے پر خوشی ہورہی ہے۔ میں جے آئی ٹی، نیب و دیگر اداروں سے تعاون کروں گا، وہ جو سوالات کریں گے ان کا جواب دوں گا۔ نیب نے اگر میری رہائی کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے تو مجھے امید ہے ہائی کورٹ بھی یہی فیصلہ کرے گی۔

