English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘عبدالرشید کا عوام کیساتھ سڑکوں پرنکلنے کا اعلان سندھ اسمبلی میں گیس لوڈشیڈنگ کی گونج

لیاری میں ایک ماہ کے اندر ماسٹر پلان پر گیس لائنوں کی تبدیلی کا کوئی کام نہیں ہوا
لی مارکیٹ اور لیاری کے دکانداروں کو کے ایم سی 12 لاکھ کے عوض دکانیں فروخت کیں
صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے سندھ کے لوگ گیس کی عدم فراہمی کا شکار ہیں ٗ ارکان پھٹ پڑے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گیس کی لوڈشیڈنگ کی سندھ اسمبلی میں بھی گونج‘جماعت اسلامی کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے عوام کے ساتھ سڑکوں پرنکلنے کا اعلان کردیا، سید عبدالرشید نے کہا کہ کچی آبادیوں‘ مارکیٹوں اور ٹھیلے والوں کی تجاوزات ختم کرنے کی مہم تو نظر آئی لیکن بلڈرز مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آئی، ان کا کہنا تھا کہ شہر میں سیکورٹی کے نام پر لوگ ممنوع بور کا اسلحہ لیے گھوم رہے ہیں ، ماضی میں جو اسلحہ لائسنس جاری ہوئے ہیں ان لائسنس ہولڈرز کا ڈیٹا کیا ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق رکن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما سید عبدالرشید نے بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ ڈسٹرکٹ سائوتھ میں سوئی گیس کے 19 لاکھ صارفین ہیں جنہیں گزشتہ 15 دن سے بالکل گیس فراہم نہیں کی جارہی، لیاری اور دیگر علاقوں کے لوگ مستقل شکایت کر رہے ہیں اور جب ہم اس مسئلے پر آواز اٹھاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ وفاق کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ڈیڑھ سال قبل جی ایم سوئی سدرن گیس سے مل کر آیا‘ ماسٹر پلان پر عمل درآمد کے اقدامات بھی ہوئے، ڈسٹرکٹ سائوتھ میں سوئی گیس والے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن یو سی چیئرمین انہیں کام نہیں کرنے دیتے۔ سید عبدالرشید نے کہا کہ اگر ایک ماہ کے اندر ماسٹر پلان پر گیس لائنوں کی تبدیلی کا کام نہیں ہوا تو پھر میں لیاری کے عوام کے ساتھ بھرپور احتجاج کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی رِٹ نظر نہیں آتی‘ کام کرنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ اس کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چائولہ نے کہا کہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے صرف کراچی ہی نہیں بلکہ پورے سندھ کے لوگ گیس کی عدم فراہمی کا شکار ہیں۔ گیس کے نرخ بھی بڑھائے جارہے ہیں اور گیس فراہم بھی نہیں کی جارہی۔ یہ سندھ کے لوگوں کے ساتھ زیادتی اور سندھ دشمنی کے مترادف ہے۔ سندھ حکومت اس مسئلے کو حل کرسکتی ہے تو ضرور کرے گی۔علاوہ ازیں سید عبدالرشید نے بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے توجہ دلائو نوٹس میں کہا کہ کچی آبادیوں‘ مارکیٹوں اور ٹھیلے والوں کی تجاوزات ختم کرنے کی مہم تو نظر آئی لیکن بلڈرز مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آئی۔ 19 کے قریب بلڈرز ہیں جنہوں نے نقشے سے ہٹ کر پلازے بنائے ہوئے ہیں لیکن وزیر بلدیات نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں‘ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ان بلڈرز مافیا کی سرپرستی کر رہی ہے۔ لی مارکیٹ اور لیاری کے دکانداروں کو کے ایم سی 12 لاکھ روپے کے عوض دکانیں فروخت کیں جو اب ملبے کا ڈھیر بنی ہوئی ہیں۔ اسی طرح سرکلر ریلوے کے 4 ہزار سے زاید متاثرین ہیں جن کے گھروں کو متبادل جگہ اور معاوضہ فراہم کرنے کا وعدہ کرکے مسمار کر دیا گیا جو کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔ متاثرین کو نہ معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی متبادل جگہ فراہم کی گئی جو سراسر زیادتی ہے۔ اس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری سلیم بلوچ نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن عدالت عظمیٰ کے حکم پر کے ایم سی نے کیا اور جو بھی تجاوزات تھیں ان کو ہٹایا گیا جن کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جاتی رہی ہے۔ معزز رکن سید عبدالرشید نے اپنے توجہ دلائو نوٹس میں جو کہا ہے کہ بلڈرز مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو ان بلڈرز کی نشاندہی کریں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔مزید برآں رکن سندھ اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما سیدعبدالرشید نے بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سوال کیا کہ شہر میں سیکورٹی کے نام پر لوگ ممنوع بور کا اسلحہ لیے گھوم رہے ہیں اور ماضی میں جو اسلحہ لائسنس جاری ہوئے ہیں ان لائسنس ہولڈرز کا ڈیٹا کیا ہے؟ اس کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ اور انچارج وزارتِ داخلہ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ 2012آرمز پالیسی کے بعد سوائے وزیراعظم کے آرڈر کے کوئی اسلحہ لائسنس جاری نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ممنوع بور کے لائسنس کے اجرا سے متعلق وفاق نے جو پالیسی ہمیں ارسال کی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ممنوع بور کے لائسنس کے لیے پورے ملک میں یکساں پالیسی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ممنوع بور کے جو بھی اسلحہ لائسنس جاری ہوئے ان کا ڈیٹا فراہم کر دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے