لندن(انٹرنیشنل ڈیسک) اسکاٹ لینڈ کی وزیر اعلیٰ نکولا اسٹرجن نے لندن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہاں کے عوام کو برطانیہ سے آزادی کے حوالے سے ریفرنڈم کرانے کی اجازت دی جائے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ اسکاٹ لینڈ کے عوام کا اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یاد رہے کہ آزادی پسند پارٹی نے گزشتہ ہفتے برطانیہ کے عام انتخابات میں اسکاٹ لینڈ میں 80 فیصد نشستیں حاصل کی تھیں۔ اسکاٹ لینڈ نے 2014 ء میں ہونے والے ریفرنڈم میں آزادی کو مسترد کر دیا تھا۔ برطانوی حکومت نے اس کے بعد رائے شماری میں یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے اس مطالبے پر مرکزی حکومت نے کہا کہ ہے اس حوالے سے وزیراعظم بورس جانسن آیندہ سال کے آغاز میں جواب دیں گے۔ دوسری جانب برطانیہ میں نئی پارلیمان نے وزیراعظم بورس جانسن کے یورپی یونین سے انخلا کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ خبررساں اداروں کے مطابق 358 ارکان پر مشتمل پارلیما ن میں رائے شماری کے دوران 284 ارکان کی اکثریت نے 31 جنوری کو بہر صورت یورپی اتحاد سے انخلا کے حق میں ووٹ دیا۔ وزیر اعظم بورس جانسن نے دوسری مدت وزارت میں پہلی کامیابی حاصل کرلی اور اس بل پر حتمی رائے شماری 25دسمبر کے بعد پھر ہوگی، تاہم پارلیمان میں ان کے ہم خیال ارکان کی اکثریت کے باعث یہ مرحلہ بھی ان کے مشکل ثابت نہیں ہوگا۔ کرسمس کی چھٹیوں سے واپس آنے کے بعد 7 جنوری سے بریگزٹ سمجھوتے سے متعلق 3 روزہ مباحثے کا آغاز کیا جائے گا۔ پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی اب یورپی یونین سے علاحدگی میں صرف ایک قدم کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالا، تاہم لیبر پارٹی ہی کے 6ارکان نے اس معاملے میں حکمراں کنزرویٹو پارٹی کا ساتھ دیا۔ واضح رہے کہ انتخابات میں بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی غیرمعمولی کامیابی حاصل کر کے اکثریتی پارٹی بنی، جب کہ اپوزیشن کی لیبر پارٹی کو بری طرح شکست ہوئی۔
