نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے معطل رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو دہلی کی ایک عدالت نے نوعمر لڑکی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں عمر قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد بی جے پی کے سابق رہنما کی اسمبلی کی رکنیت بھی خطر ے میں پڑ گئی ہے۔ بھارتی قانون کے مطابق کم از کم 2 برس جیل کی سزا ہونے پر رکن پارلیمان کو اپنی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے نے اس معاملے کو انتہائی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے عدالت سے مجرم کو عمر قید کی سزا سنانے کی درخواست کی تھی، جو اس طرح کے معاملات میں سب سے زیادہ سزا ہے۔ دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجرم سینگر کو ایک ماہ کے اندر جرمانے کی رقم جمع کرنا ہوگی۔ اس میں سے 10 لاکھ روپے معاوضے کے طورپر متاثرہ لڑکی کو دیا جائے گا۔ اگر مجرم نے یہ رقم جمع نہیں کرائی تو اس کی جائداد ضبط کرلی جائے گی۔ عدالت نے متاثرہ لڑکی اور اس کے کنبے کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اترپردیش میں اناؤ کے رکن اسمبلی سینگر نے 2017ء میں ایک لڑکی کو ملازمت دینے کے لیے اپنے گھر بلایا تھا، جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی۔ جب لڑکی اپنے گھر نہیں پہنچی تو گھر والوں نے شکایت درج کرائی، جس کے بعد ایک اور شہر سے اسے بازیاب کرایا گیا۔ لڑکی نے بیان میں کہا کہ اسے اغوا کر کے کانپور لے جایا گیا، جہاں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ پولیس اس کی شکایت درج کرنے میں ٹال مٹول کرتی رہی، تاہم سینگر کو گزشتہ برس اپریل میں اس وقت گرفتار کیا جاسکا، جب متاثرہ لڑکی نے دھمکی دی کہ اگر پولیس نے اس کی شکایت درج نہیں کی تووہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی رہایش گاہ کے باہر خود سوزی کرلے گی۔ عدالت نے کہا کہ متاثرہ لڑکی نے جب اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی کو شکایتی خط لکھا تو اسے انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
