انقرہ/ طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور باغی حفتر ملیشیا کے درمیان تازہ جھڑپوں کے باعث خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس جنگ زدہ ملک میں متحدہ قومی حکومت نے ترکی کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا ہے، جس کے بعد کئی علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں میدان میں آگئی ہیں۔ اسی تناظر میں جمعہ کے روز تُرک صدر رجب طیب اردوان نے مصر، متحدہ عرب امارات، فرانس اور اٹلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تُرک صدر نے صحافیوں سے گفتگو میںکہا کہ لیبیا میں سابق جنرل خلیفہ حفتر کو اقتدار دلانے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو نظرانداز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے چاروں ممالک پر الزام لگایا کہ وہ ان کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس جنگ میں حفتر ملیشیا کے ساتھ روسی سیکورٹی ادارے کے تعاون پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اپنی علاقائی صورت حال میں رونما ہونی والی تبدیلیوں پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے گا۔ دوسری جانب باغی ملیشیا کی جانب سے حکومتی افواج کے 20 ٹھکانوں پر بم باری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ باغی ملیشیا کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے مصراتہ میں فضائی اکیڈمی پر بمباری کی، جب کہ شہر کے جنوب میں بھی فضائی یلغار کے نتیجے میں فضائی دفاع کا کیمپ دھماکوں سے گونج اٹھا۔ اس دوران ذرائع نے بتایا کہ فوج اور باغی ملیشیا کے درمیان طرابلس کے جنوب میں واقع علاقے وادی الربیع میں گھمسان کی بھی لڑائی ہوئی۔ باغی ملیشیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے طرابلس کے علاوہ 2 شہروں مصراتہ اور سرت کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ علاقے میں سرکاری اور نجی شعبے کے تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں بھی معطل ہوگئی ہیں۔
