لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی عدالتی فیصلوں پر آواز اٹھائیں تو غداری کا عنوان ہو ،حکومت یا ادارے کے خلاف فیصلہ آئے تو آئین ،قانون اور عدلیہ غدار ٹھیریں ،یہ اصول نہیں چل سکتا ۔ بعض عناصر قومی اداروں کو باہم لڑانے کی سازش کررہے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کو ہر کوئی قبول کرے، آئینی اور بنیادی اپیل کا حق استعمال کرے نہ کہ ذاتی اغراض کے لیے ملک کو ہیجانی کیفیت کا شکار کردیا جائے۔ جن قوتوں نے جنرل پرویز مشرف کو باہر بھجوایا انہیں معلوم تھا کہ مقدمے کی نوعیت بہت سنگین ہے ۔ملک کے استحکام ،ترقی اور
قانون کی بالا دستی کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت ،سیاست اور ریاست آئین اور عدلیہ کے دائرہ کار اور اختیار کو تسلیم کرے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں سیاسی و مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جنرل مشرف نے آئین توڑا اور بار بار خلاف ورزیاں کیں ۔آئین معطل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا۔عدالت عظمیٰ کی ڈائریکشن کو توڑا ،ایمرجنسی پلس لگا کر آئین کو زخمی کیا۔وردی اتارنے اور فوجی عہدہ چھوڑنے کے لیے آئینی پابندی کی خلاف ورزی کی۔ نائن الیون کے بعد امریکا کے آگے سرنڈر نے ملک و ملت کو رسوا کیا۔انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت نے فیصلہ کردیا ہے اب بالا ترعدالتیں بھی اپنا اختیار استعمال کریں گی۔جنرل مشرف نے عدالتی کارروائی سے فرار کا راستہ اختیار کیااب وہ عدالت کے سامنے سرنڈر کریں اور رحم کی توقع رکھیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے موقف سے یوٹرن لے چکے ، لیکن وزرا کی ٹیم کو فساد اور آگ پھیلانے سے روکیں۔
