English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان کو شرکت نہ کرنے پر مجبور نہیں کیا‘ سعودی سفارتخانہ۔ عمران خان سے مل کر امت کی فلاح کا منصوبہ بنایا تھا‘ مہاتر محمد

القمر

اسلام آباد، کوالالمپور (نمائندہ جسارت+آن لائن +صباح نیوز)پاکستان میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔ہفتے کو جاری کیے جانے والے اس بیان میں سفارت خانے کی جانب سے تُرک صدر رجب طیب اردوان کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو کوالالمپور سمِٹ میں شرکت نہ کرنے پر قطعاً مجبور نہیں کیا،دونوں ممالک کے تعلقات ایسے نہیں جہاں دھمکیوں کی زبان استعمال ہو‘درحقیقت سعودی عرب اور پاکستان کے باہمی تزویراتی تعلقات اعتماد، افہام و تفہیم اور احترام کی بنیاد پر قائم ہیں، سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی حکام کو کوئی دھمکی نہیں دی گئی۔ سعودی سفارت خانہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بیشترعلاقائی،عالمی اوربطور خاص امت مسلمہ کے معاملات میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، سعودی عرب ہمیشہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے، ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے تاکہ پاکستان ایک کامیاب اور مستحکم ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔ علاوہ ازیں ملائیشیا کے وزیراعظم مہا تیر محمد نے کوالالمپور سمٹ میں ہفتے کو آخری روز خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی غیر موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جنیوا میں رجب طیب اردوان ، عمران خان اور میں نے امت مسلمہ کی فلاح کے لیے کام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا،ہمیں خوشی ہوتی اگر عمران خان ہمارے ساتھ موجود ہوتے۔مہاتیر محمد نے انکشاف کیا کہ20 مسلم ممالک اور ماہر معیشت دانوں کے اہم اجلاس کوالالمپور سمٹ میں ملائیشیا، ترکی، قطر اور ایران ایک دوسرے سے تجارت ڈالر، پاونڈ یا یورو کے بجائے سونے یا درہم میں کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ملائیشیا کے وزیراعظم نے ایران اور قطر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کو مستقبل کے خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیے خود انحصاری کو اپنانا ہوگا جس کے لیے ایک دوسرے سے تجارت کے لیے کرنسی کے بجائے بارٹر سسٹم(اشیا کا تبادلہ)بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ چین میں یغور مسلمانوں اور بھارت میں شہریت ترمیمی بل کے نام پر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بناکر امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے،ایک ریاست کی حیثیت میں ہم اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور عالمی قوتوں کو بھی اس سلسلے میں آگے آنا ہوگا ۔واضح رہے کہ سمٹ کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے، اس سمٹ میں ملائیشیا ، ایران، ترکی، قطر اورایران سمیت 20مسلم ممالک کے رہنمائوں نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے