کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی حکومت سے برطرف شدہ طارق کلیم پھر جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس بن گئے۔ جامعہ کراچی اساتذہ نے تشویش کا اظہار کردیا۔ جامعہ کراچی کے موجودہ ڈائریکٹر فنانس طارق کلیم کو حکومت سندھ نے 2015 میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔طارق کلیم کو 2015 میں اختیارات کے ناجائز استعمال اورمختلف ہتھکنڈوں سے کرپشن کے الزامات کا سامنا تھا۔برطرف شدہ طارق کلیم عدالت میں خود پر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت نہ کرسکے تھے۔برطرفی ہونے کے باوجود طارق کلیم جامعہ کراچی کی سرکاری گاڑی GL7612 دو سال چھ ماہ تک استعمال کرتے رہے اور سرکاری اکاونٹ سے فیول کی مد میں پیسے بھی وصول کرتے رہے۔ حتی کہ جامعہ کراچی انتظامیہ کو سرکاری گاڑی ریکور کرانے کیلئے قانونی چارہ جوئی اور FIR کا سہارا لینا پڑا تھا۔اس سبب جامعہ کراچی کو بھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ طارق کلیم نے اس وقت جامعہ کی طرف سے ملنے والا سرکاری لیپ ٹاپ بھی اب تک واپس نہ کیا۔ واضح رہے کہ فیول کی مد میں واجب الادہ رقم اور سرکاری لیپ ٹاپ کی ریکوری اب تک طارق کلیم سے باقی ہے۔سنگین کرپشن کے الزامات کے سبب برطرف ہونے والے طارق کلیم کی دوبارہ تقرری پر جامعہ کراچی کے اساتذہ نے بھی شدید اظہار تشویش کردیا ہے۔اساتذہ اور طلبہ کا موقف ہے کہ سنگین کرپشن میں ملوث میں طارق کلیم ایک بار پھر تقرری جامعہ کراچی کے مستقبل کیلئے باعث تشویش ہے۔

