English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب،خاشق جی قتل کیس میں 5 افراد کو سزائے موت

القمر

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب کی ایک عدالت نے 5 افراد کو جمال خاشق جی کے قتل میں ملوث ہونے پر موت کی سزا سنا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس کی وجہ سے ریاض حکومت اور سعودی ولی عہد عالمی سطح پر شدید دباؤ میں تھے۔ ذرائع ابلاغ یک مطابق سعودی عدالت نے واشنگٹن پوسٹ کے سعودی نژاد صحافی جمال خاشق جی کے قتل میں ملوث ہونے پر 3 دیگر افراد کو قید کی سزا بھی سنائی ہے، تاہم کسی بھی مجرم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ خبر سرکاری ٹیلی وژن ’’الاخباریہ‘‘ پر پیر کے روز نشر کی گئی۔ مجرموں کو سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ مقدمے سے متعلق عدالت کی سماعت کافی حد تک خفیہ رکھی گئی تھی۔ صرف چند سفارت کاروں، خاشق جی کے خاندان کے چند ارکان اور کچھ ترک اہلکاروں ہی کو اس کا علم تھا۔ سزاؤں کا اعلان اٹارنی جنرل کے ترجمان نے کیا، جسے ٹیلی وژن پر براہ راست نشر کیا گیا۔ جمال خاشق جی اکتوبر 2018ء میں چند دستاویزات حاصل کرنے کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے، جہاں سے وہ زندہ باہر نہ نکلے اور ان کی لاش بھی آج تک نہیں مل سکی۔ قتل کے حوالے سے ابتدا میں ریاض حکومت لاعلمی کا دعویٰ کرتی رہی تاہم بعد ازاں یہ تسلیم کر لیا گیا کہ خاشق جی کو چند اہلکاروں نے قونصل خانے میں قتل کیا اور لاش کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ کئی حلقوں میں اس قتل کی ذمے داری ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر عائد کی جاتی رہی تاہم انہوں نے اور ریاض حکومت نے ولی عہد یا اعلیٰ قیادت کے کسی بھی رکن کے اس میں ملوث ہونے کو مسترد کیا۔ گزشتہ روز ریاض کی ایک عدالت میں سامنے آنے والے فیصلے میں اس وقت استنبول میں تعینات سعودی قونصل جنرل سعود القحطانی کو بھی اس معاملے سے بری قرار دیا گیا ہے۔ سعودی ٹیلی وژن پر بتایا گیا ہے کہ خاشق جی قتل کی سعودی اٹارنی جنرل کی جانب سے کرائی گئی تفتیش میں بھی یہی سامنے آیا تھا کہ القحطانی کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سعودی پبلک پراسیکیوٹر شلان الشلان کے مطابق جمال خاشق جی کے قتل کی تحقیقات کے دوران 21 افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ 10 افراد کو حراست میں لیے بغیر انہیں بلا کر پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ القحطانی شہزادہ محمد بن سلمان کے قریبی ہیں اور امریکا ان پر اس قتل کے سلسلے میں پابندیاں عائد کر چکا ہے جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی نشریاتی ادارے ’پبلک براڈ کاسٹنگ سروس‘ کی ایک دستاویزی فلم میں اقرار کیا تھا کہ وہ صحافی جمال خاشق جی کے قتل کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہیں کیوں کہ وہ اُن کے دورِ حکومت میں قتل ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے