مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل اخباریدیعوت احرونوت نے انکشاف کیا ہے کہ 10برس کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد یہودکو دنیا بھرسے جمع کرکے فلسطین میں آباد کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2010ء کے بعد 2019ء تک دُنیا کے ڈیڑھ سو ممالک سے 2لاکھ 55ہزار یہودکو فلسطین میں آباد کرنے کی راہ ہموار کی گئی۔ رواں برس کے دوران 34ہزار یہودفلسطین آئے،جن میں روس، یوکرائن، فرانس، امریکا اور ایتھوپیا سمیت 150 ممالک کے شہری شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سوویت یونین سے ایک لاکھ 30ہزار، یورپی ممالک سے 55ہزار، شمالی امریکا سے 36ہزار، لاطینی امریکا سے 13ہزار 420، ایتھوپیا سے ساڑھے 10ہزار اور جنوبی افریقا سے 2560 یہودکو آبائی ممالک سے لاکر مقدس سرزمین پر بسایا گیا۔ واضح رہے کہ 1948ء سے 2007ء کے دوران آباکاری کا تناسب 32ہزار تھا،جس میں 2برس کے دوران ہی تیزی لائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں صہیونی حکومت تیزی سے فلسطینیوں کی اراضی پر قبضہ کرکے آبادکاری منصوبے تیار کررہی ہے۔ دوسری جانب صہیونی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکورٹی میں یہودی شرپسندوں کی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز 79سے زائد یہود مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی،جن میں آباد کار، طلبہ اور صہیونی انٹیلی جنس حکام بھی شامل تھے۔
