تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا کے نمایندے ابراہیم دیلمی نے تہران میں ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کے ساتھ ملاقات کی۔ حوثیوں کے ٹی چینل نے چند تصاویر نشر کی ہیں،جن میں دونوں رہنما ؤںکو ملاقات کرتے دکھایا گیا ہے۔ چند ہفتے قبل تہران نے دیلمی کو ایران میں یمن کے سفیر کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا۔ حوثی میڈیا کے مطابق دیلمی اور ایرانی وزیر کے درمیان بات چیت میں حوثی ملیشیا اور ایرانی فوج کے درمیان عسکری شعبوں میں مشترکہ تعاون مضبوط بنانے پر غور ہوا۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکا کی ایران پر پابندیوں کی پالیسی فضول اور غیر دانش مندانہ اقدام ہے۔ انہوںنے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ امریکا کی حالت اس نشہ کرنے والے کی سی ہے،جو کوئی کام کرنے اور نہ کرنے کے بیچ گھومتا رہتا ہے۔ ادھر مغربی میڈیا پر ان دنوں ایرانی پاسداران انقلاب کے رہنما عبدالرضا شہلائی کی سرگرمیوں کا چرچا ہے۔ امریکا نے 5دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ یمن میں شہلائی کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کوڈیڑھ کروڑ ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی۔ قبل ازیں ایران کے لیے خصوصی امریکی ایلچی برائن ہک کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن نے ایک ایرانی جہاز کا پتاچلایا جو جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کی کھیپ لے کر یمن جا رہا تھا۔
