English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ادلب 48 گھنٹے میں ہلاکتیں 120 سے متجاوز

ادلب: شام کے شمال مغربی صوبے پر بم باری کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے‘ معرۃ النعمان شہر پر حملوں کے بعد شہری نقل مکانی کررہے ہیں

دمشق ؍ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے شمال مغربی صوبے اِدلب میں اسدی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپوں میں 48 گھنٹے کے دوران 120 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اِدلب میں نئی دوبدو لڑائی اتوار کے روز شروع ہوئی تھی، جس میں شامی صدر بشار الاسد کی فوج کے 54 اہل کار مارے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب مزاحمت کاروں اور شہریوں سمیت 53 افراد جاں بحق ہوئے۔ اُدھر اِدلب کے مختلف علاقوں پر روس کے لڑاکا طیاروں نے بھی بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 15 افراد مارے گئے جبکہ شامی شہری اسدی فوج کے اِدلب پر قبصے کے لیے شروع کی گئی اس نئی کارروائی کے بعدہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کررہے ہیں۔ انسانی حقوق تنظیم اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جاری تصاویر کے مطابق صوبہ اِدلب کے جنوب میں واقع دیہات اور قصبوں سے لوگ ٹرکوں ، کاروں اور موٹر سائیکلوں کے ذریعے اپنی اشیائے ضروریہ کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب جارہے ہیں۔ واضح رہے کہ شامی فوج نے 3 روز پہلے مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ صوبے اِدلب کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے جس کے بعد مقامی لوگ جان بچانے کے لیے ملک کے دوسرے علاقوں کی جانب جارہے ہیں یا ترکی کے سرحدی علاقے کا رُخ کررہے ہیں۔ اسدی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان گزشتہ جمعہ اور ہفتے کے روز جھڑپوں میں بھی کم از کم 70 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ شامی فوج فضائی حملوں کی مدد سے پیش قدمی کرنے کے ساتھ مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے۔ رصدگاہ کی اطلاع کے مطابق شامی فوجی مزاحمت کارووں کے زیر قبضہ شہر معرۃ النعمان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ شہر دارالحکومت دمشق اور ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے درمیان مرکزی شاہراہ پر واقع ہے ۔ دوسری جانب ترک محکمہ اطلاعات کے مطابق صدر رجب طیب اِردوان نے برطانوی وزیرا عظم بورس جانسن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں لیبیا اور شام سمیت علاقائی صورت حال اور دو طرفہ تعلقات پر غور کیا گیا۔ دونوں سربراہان نے خصوصاً ترکی اور برطانیہ کے روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں طرابلس اور ادلب میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے