English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہانگ کانگ جھڑپوں کی نئی لہر مظاہرین کے پیٹرول بم حملے

ہانگ کانگ: مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں‘ سیکورٹی اہل کاروں کی جانب سے طاقت کا کھلا استعمال کیا جا رہا ہے

ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ میں کرسمس کے موقع پر بھی مظاہروں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ منگل کے روز ایک شاپنگ مال میں پولیس کی جانب سے پر امن مظاہرین پر تشدد کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ پولیس کی جانب آنسو گیس کی بے تحاشا شیلنگ کے جواب میں چہرے پر ماسک چڑھائے سیاہ لباس میں ملبوس مشتعل نوجوانوں نے پتھراؤ کیااور پیٹرول بم بھی پھینکے۔ ادھر ہانگ کانگ کی خاتون سربراہ نے مذہبی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیان دیا کہ خود غرض اور مفاد پرست مظاہرین نے عیسائیوں کے تہوار کا ذرہ برابر لحاظ نہیں کیا۔ ان کے احتجاج کے باعث ہانگ کانگ کے شہری اور سیاح کرسمس کی خریدار نہیں کرسکے۔ ادھر احتجاجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ کرسمس کی خریداری کے لیے آنے والے سیاحوں تک پر امن طریقے سے اپنا پیغام پہنچانا چاہتے تھے، تاہم پولیس نے شاپنگ مال میں جمہورت نوازوں پر تشدد کرکے اشتعال پیدا کیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بدھ کے روز شہر کے کئی علاقوں، خریداری کے معروف مراکز اور مشہور سیاحتی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ مظاہرین پر پانی کی توپوں کااستعمال، لاٹھی چارج اور مرچوں کااسپرے بھی کیا۔ شام کے اوقات میں سڑکوں، شاپنگ مالوں اور شہر کے دیگر علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ واضح رہے کہ جون میں ہانگ کانگ کی حکومت نے چین کو مطلوب ملزمان کو بیجنگ کے حوالے کرنے اور وہیں مقدمہ چلانے کا بل پیش کیا تھا، جس کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا۔ ابتدائی چند ہفتوں تک احتجاج پر امن رہا، تاہم پولیس کی جانب تشدد کے بعد مظاہرین بھی مخالفت پر ڈٹ گئے۔ حکومت کی جانب سے مظاہرین کے چہرے ماسک پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم اسے ہوا میں اڑادیا گیا۔ حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی جمہوریت نواز رہنما نے کامیابی حاصل کرکے حکومت کے خلاف اپنا لوہا منوایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے